خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
پاکستان میں موبائل فون صارفین کیلئے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں Pakistan Telecommunication Authority نے سم ڈس اون (Disown) پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے نئی فعال سمز کے حوالے سے مدت 60 دن سے بڑھا کر 365 دن کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پر گزشتہ چند روز سے یہ دعویٰ گردش کر رہا تھا کہ اب کوئی بھی صارف نئی جاری کردہ سم کو ایک سال تک نہ تو اپنے نام سے خارج کر سکے گا اور نہ ہی کسی دوسرے فرد کے نام منتقل کر سکے گا۔ اس حوالے سے عوامی سطح پر سوالات اور تشویش پیدا ہوئی جس کے بعد پی ٹی اے نے باضابطہ وضاحت جاری کی۔
پی ٹی اے نے کیا کہا؟
پی ٹی اے کے مطابق نئی ایکٹیویٹ ہونے والی سم کو فوری طور پر ڈس اون کرنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ اس کیلئے ایک سال کی مدت مکمل کرنا ضروری ہوگی۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی سمز کے اجرا، جعلی رجسٹریشن اور سائبر جرائم میں استعمال ہونے والے موبائل نمبرز کی روک تھام ہے۔
سکیورٹی خدشات کیوں بڑھے؟
حالیہ برسوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بارہا نشاندہی کر چکے ہیں کہ بعض افراد دوسروں کے شناختی کارڈ یا بائیومیٹرک معلومات استعمال کرکے سمز حاصل کرتے ہیں جنہیں بعد میں مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق نئی پالیسی ایسے عناصر کیلئے مشکلات پیدا کرے گی جو مختصر مدت کیلئے سم حاصل کرکے اسے چھوڑ دیتے ہیں۔
صارفین کیلئے اہم ہدایت
پی ٹی اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ نئی سم جاری کرواتے وقت بائیومیٹرک تصدیق کے عمل میں انتہائی احتیاط برتیں کیونکہ ایک مرتبہ سم ایکٹیویٹ ہونے کے بعد اسے ایک سال تک ڈس اون نہیں کیا جا سکے گا۔
اتھارٹی نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کو اپنی شناختی معلومات یا انگوٹھے کے نشانات استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
اپنی سمز کیسے چیک کریں؟
پی ٹی اے کے مطابق صارفین اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ تمام سمز کی تفصیلات باآسانی حاصل کر سکتے ہیں۔
اس مقصد کیلئے شہری:
- 668 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش) ایس ایم ایس کریں۔
- یا متعلقہ پورٹل cnic.sims.pk کے ذریعے معلومات حاصل کریں۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر نئی پالیسی پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
بعض صارفین نے اسے سکیورٹی کے نقطہ نظر سے مثبت قدم قرار دیا جبکہ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ غلطی سے جاری ہونے والی سم یا غیر ضروری نمبر سے جان چھڑانے کیلئے ایک سال انتظار کرنا صارفین کیلئے مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
ٹیلی کام ماہرین کے مطابق پاکستان میں موبائل سمز کے غلط استعمال، مالی فراڈ اور سائبر کرائمز کی بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر ایسی پابندیاں عالمی رجحانات کے مطابق سمجھی جا سکتی ہیں۔
ان کے مطابق اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب بائیومیٹرک نظام کو مزید محفوظ بنایا جائے اور غیر مجاز رجسٹریشنز کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پی ٹی اے کی نئی پالیسی کا بنیادی مقصد قومی سلامتی اور سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔ اگرچہ بعض صارفین کیلئے یہ فیصلہ مشکلات پیدا کر سکتا ہے، تاہم غیر قانونی سمز اور شناختی معلومات کے غلط استعمال کی روک تھام کیلئے یہ ایک اہم اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق عوام کو سب سے زیادہ توجہ اس بات پر دینی چاہیے کہ ان کے نام پر کتنی سمز رجسٹرڈ ہیں اور کہیں ان کی شناختی معلومات کسی غیر متعلقہ فرد کے زیر استعمال تو نہیں