سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد، سائفر کیس میں نئی پیشرفت

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ان کے وکیل کی فوری ملاقات کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ اس دوران سائفر کیس میں بھی اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی، جہاں عدالت نے بریت کے خلاف اپیلوں پر تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم جاری کیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ان مقدمات کی سماعت کی۔

تفصیلات کے مطابق، وکیل لطیف کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت طلب کی تھی، مگر عدالت نے اسے فوری طور پر منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ “ہم بغیر نوٹس ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے۔ ملاقات سے متعلق کوئی بھی آرڈر جاری کرنے سے قبل دوسرے فریق کو نوٹس دینا ضروری ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ابھی درخواست کے قابل سماعت ہونے کے اعتراض کی رکاوٹ کو عبور کرنا ہوگا۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ آپ کے مقدمات دوسری عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔”

چیف جسٹس نے یہ بھی واضح کیا کہ “ہمارے خیال میں یہ کیس غیر موثر ہو چکا ہے۔ 24 اگست 2023 کا حکمنامہ تھا جس کے خلاف یہ کیس آیا تھا۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیس غیر موثر ہو چکا ہے یا ابھی چلایا جا سکتا ہے۔” لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مجھے موکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ “کل ملاقات سے متعلق بھی فیصلہ کریں گے، تاہم دوسرے فریق کو نوٹس کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔” اس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، اور حکومت کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔

اسی سماعت کے دوران، سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے سائفر کیس میں بریت کے خلاف اپیلوں پر تین رکنی بینچ بنانے کا حکم دے دیا۔ اسی طرح، شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں بریت کے خلاف بھی تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم جاری کیا گیا۔ علاوہ ازیں، القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواست غیر موثر ہونے پر خارج کر دی گئی۔ عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواست کو بھی غیر موثر ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیا۔

مزید برآں، توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں غیر موثر ہونے پر خارج کر دی گئیں۔ دوران سماعت، عدالت نے 9 مئی لاہور واقعات میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر تین رکنی بینچ بنانے کا حکم دیا۔ عدالت نے سائفر کیس اور 9 مئی واقعات میں ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت کو دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے پی ٹی آئی بانی سے متعلق تمام کیسز کی سماعت کی، جو پاکستان میں بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کیس میں جہاں عمران خان کو ریلیف ملا، حکومت نے اپیل دائر کی۔ سلمان صفدر نے سائفر کیس کو پاکستان کا مہنگا ترین ٹرائل قرار دیا اور کہا کہ اس کا نتیجہ سب نے دیکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام لائیو کیسز میں ملتوی ہے، اور جب بھی سپریم کورٹ آئے تو ریلیف ملا۔ ہماری ملاقاتیں محدود ہیں، لیکن کیسز کی سماعت بھی نہیں ہو رہی۔ اگر ایک فورم پر انصاف نہیں مل رہا تو اسے بائی پاس کر کے اعلیٰ فورم سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے کبھی میڈیکل گراؤنڈز پر عدالت میں بات نہیں کی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پی ٹی آئی بانی کی صحت سے بے خبر رکھا جائے۔ ہم نے میڈیکل گراؤنڈز پر ضمانت نہیں مانگی۔ کل ملاقات کی امید ہے، پچھلی ملاقات بھی چیف جسٹس کی وجہ سے ہوئی۔ ان کی ملاقاتیں کروائی جائیں، سردی ختم ہوئی اور رمضان آنے والا ہے۔ بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی بانی کی ضمانت کی درخواستیں سماعت کے لیے لگائی جائیں۔ ہم نے سپریم کورٹ سے بھی ملاقات کی درخواست کی ہے۔ پچاس کیسز لائیو ہیں، تمام کیسز سپریم کورٹ میں تھے جہاں حکومت نے ضمانت منسوخی کی درخواستیں دی تھیں۔ ملزم کو آنکھ کا تارا نہ بنائیں، سب کو برابر رکھیں۔

یہ سماعت 09 فروری 2026 کو ہوئی، جو پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم دن کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔