کراچی:متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم لندن) کے بانی و قائد الطاف حسین کی طبیعت ناساز ہونے پر انہیں اتوار کی شب لندن کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
ایم کیو ایم لندن نے پیر کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں بتایا کہ ڈاکٹروں کے مشورے پر الطاف حسین کو خون منتقل کیا جا رہا ہے۔ پارٹی کے مطابق طبیعت بگڑنے پر انہیں اتوار کی شام اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں زیرِ علاج رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اس سے قبل رات تقریباً 3 بج کر 20 منٹ پر جاری ایک اور پیغام میں ایم کیو ایم لندن نے کہا تھا کہ ڈاکٹروں نے الطاف حسین کا طبی معائنہ کیا، انہیں انجیکشن لگایا گیا اور جسمانی کمزوری کے باعث ڈرپ بھی چڑھائی گئی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پیر کے روز ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کا تفصیلی طبی معائنہ کرے گی۔
پارٹی کے مطابق، صحت کی صورتحال کے حوالے سے جیسے جیسے نئی معلومات سامنے آئیں گی، کارکنان اور عوام کو بروقت آگاہ کیا جاتا رہے گا۔
واضح رہے کہ الطاف حسین کو گزشتہ برس جولائی میں بھی طبی معائنے کے لیے اسپتال لے جایا گیا تھا۔ اس وقت ایم کیو ایم لندن کے رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے بتایا تھا کہ ڈاکٹروں نے ان کی حالت جانچنے کے لیے مختلف تشخیصی ٹیسٹ تجویز کیے تھے اور خون کی منتقلی کی بھی سفارش کی گئی تھی، جس کا انتظام بعد ازاں کیا گیا تھا۔
الطاف حسین گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے 1992 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی اور بعد میں برطانوی شہریت حاصل کر لی۔ پاکستانی حکام کی جانب سے ان پر ملک میں تشدد کو ہوا دینے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔
الطاف حسین 17 ستمبر 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ایک طالب علم رہنما کے طور پر کیا اور 1978 میں عظیم احمد طارق کے ساتھ مل کر آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں 1984 میں انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) قائم کی۔