اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ہتکِ عزت کیس میں وزیرِاعظم شہباز شریف کے خلاف بانی پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواست پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کی موجودہ قانونی حیثیت کیا ہے؟ جس پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ معاملہ اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کارروائی مؤخر کرتے ہوئے کیس آئندہ سماعت کے لیے نئے تشکیل دیے گئے بینچ کے روبرو مقرر کرنے کا حکم دیا۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی اور توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیں۔
عدالتِ عظمیٰ نے 9 مئی لاہور کے واقعات سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر بھی تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دیا، جبکہ سائفر کیس اور 9 مئی کے دیگر مقدمات میں ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کے تمام مقدمات کی سماعت کی، جو ان کے بقول عدالتی نظام میں ایک تشویشناک مثال کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن مقدمات میں عمران خان کو ریلیف ملا، حکومت نے ان تمام فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کر دی ہیں۔
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ سائفر کیس پاکستان کا مہنگا ترین ٹرائل ثابت ہوا، جس کا انجام سب کے سامنے ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے دیگر زیرِ سماعت مقدمات مسلسل التواء کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی وہ سپریم کورٹ آئے، عدالت عظمیٰ سے ریلیف ملا، اس کے باوجود ملاقاتوں پر پابندیاں عائد ہیں اور کیسز مقرر نہیں کیے جا رہے۔
دوسری جانب وکیل سلمان صفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ایک عدالتی فورم سے انصاف نہ ملے تو اعلیٰ عدالتی فورم سے رجوع کرنا قانونی حق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل گراؤنڈ کو تاحال ضمانت کی بنیاد نہیں بنایا گیا، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی صحت سے متعلق معلومات کو نظرانداز کیا جائے۔
سلمان صفدر نے امید ظاہر کی کہ کل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ممکن ہو جائے گی، اور کہا کہ گزشتہ ملاقات بھی چیف جسٹس کی مداخلت سے ممکن ہوئی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتوں کا فوری اہتمام کیا جائے اور سردیوں کے اختتام اور رمضان المبارک سے قبل ضمانتوں کے مقدمات مقرر کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بانی پی ٹی آئی کے خلاف تقریباً 50 مقدمات زیرِ سماعت ہیں اور سپریم کورٹ میں وہ تمام کیسز موجود تھے جن میں حکومت نے ضمانتیں منسوخ کرنے کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور کسی کو خصوصی حیثیت نہیں دی جانی چاہیے۔
9