لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی سخت موقف اور بائیکاٹ کی دھمکی نے اثر دکھایا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اب پاکستان کو منانے کے لیے خود لاہور پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ روز لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں آئی سی سی، پی سی بی اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے درمیان پانچ گھنٹے سے زائد طویل مذاکرات ہوئے، جن میں پاک بھارت میچ کے انعقاد پر اہم پیش رفت ہوئی۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان نے بنگلہ دیش کی بحالی اور دیگر مطالبات پر زور دیا تو آئی سی سی نے مثبت ردعمل دکھایا ہے۔ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مطالبات پر غور کرتے ہوئے ورلڈ کپ سے اخراج کے بعد ازالے کا فارمولہ تیار کر لیا ہے۔ پاکستان نے اس معاملے میں باہمی رابطہ کار کا کردار ادا کیا۔
آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ نے آئی سی سی بورڈ سے تجاویز کی حتمی منظوری لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ بی سی بی کے صدر امین الاسلام بھی ڈھاکا میں اپنی حکومت کو بریف کریں گے۔ باہمی فارمولے پر اتفاق کی صورت میں آج دوپہر آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان دوبارہ رابطہ ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں بڑا بریک تھرو متوقع ہے۔ پاکستان کی حکومت اور پی سی بی کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ بائیکاٹ کا فیصلہ، بنگلہ دیش کی حمایت میں کیا گیا تھا، جو اب رنگ لا رہا ہے۔ آئی سی سی نے پاکستان کے موقف کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مذاکراتی میز پر آنے کو ترجیح دی۔
یاد رہے کہ ٹورنامنٹ کا آغاز 7 فروری سے ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان بمقابلہ بھارت گروپ مرحلے کا میچ 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو یہ میچ کھیلا جا سکتا ہے، ورنہ پاکستان کو پوائنٹس کا نقصان اور دیگر نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شائقین کرکٹ اب اگلے چند گھنٹوں کا انتظار کر رہے ہیں جب پاکستان کی شرکت اور پاک بھارت میچ کی حتمی صورتحال واضح ہو گی۔ یہ مذاکرات کرکٹ کی سیاست اور کھیل کے درمیان توازن کی ایک نئی مثال پیش کر رہے ہیں۔