لاہور/دبئی (اسپورٹس ڈیسک – غلام مرتضیٰ) آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے پاکستانی ٹیم کے ممکنہ اسکواڈ میں ایک بڑا تنازعہ سامنے آ گیا ہے۔ بگ بیش لیگ کے رواں سیزن میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے فاسٹ بولر حارث رؤف کی ٹیم میں شمولیت اب شدید مشکوک ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے حارث رؤف کو ابتدائی ۱۵ رکنی فہرست میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایشیا کپ ۲۰۲۵ کے فائنل میں حارث کی مایوس کن کارکردگی کی بنیاد پر لیا گیا، جہاں انہوں نے ۴ اوورز میں ۵۰ رنز دے کر کوئی وکٹ نہ لے سکی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد حارث رؤف نے بگ بیش لیگ میں شاندار کم بیک کیا۔ انہوں نے ۱۰ میچز میں ۱۷.۱۱ کی اوسط اور ۸.۹۳ کے ایکنومی ریٹ سے ۱۸ وکٹیں حاصل کیں اور لیگ کے کامیاب ترین بولر بنے۔
تاہم آئی سی سی کو بھیجی گئی پاکستان کی ابتدائی ۱۵ رکنی فہرست میں حارث رؤف کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے حتمی اسکواڈ کا اعلان ۳۱ جنوری تک ہونا ہے۔
ماہرین کی رائے سابق کپتان اور فاسٹ بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ حارث رؤف کی حالیہ فارم کو نظر انداز کرنا خطرناک فیصلہ ہو گا۔ “ایشیا کپ فائنل ایک میچ تھا، جبکہ بگ بیش میں انہوں نے ۱۰ میچز میں مسلسل دباؤ میں بہترین بولنگ کی۔ ورلڈ کپ میں ڈیتھ اوورز کے لیے حارث جیسا بولر ناگزیر ہے۔”
دوسری جانب سابق سلیکٹر طلعت علی کا خیال ہے کہ کوچ کا فیصلہ درست بھی ہو سکتا ہے۔ “ایشیا کپ فائنل میں پریشر ہینڈل کرنے میں ناکامی نے اعتماد کھو دیا۔ اگر حارث کو شامل کیا بھی جائے تو انہیں ابھی سے دباؤ میں بولنگ کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔”
صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق حارث رؤف پاکستان کی تیز ترین بولنگ یونٹ کا اہم ترین حصہ ہیں۔ ان کی ۱۵۰ کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار اور ڈیتھ اوورز میں یارکروں نے پاکستان کو کئی میچز جتوائے ہیں۔ بگ بیش میں ۱۸ وکٹوں کا ریکارڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ فارم میں واپسی مکمل ہو چکی ہے۔
مائیک ہیسن کا فیصلہ اگر حتمی ہوا تو یہ ایک بہت بڑا جوا ہوگا۔ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا، انگلینڈ اور بھارت جیسی ٹیموں کے خلاف ڈیتھ بولنگ کے لیے حارث جیسا تجربہ کار اور خوفناک بولر نہ ہونا پاکستان کی کمزوری بن سکتا ہے۔
یہ فیصلہ فارم پر مبنی ہے یا ذاتی اختلافات پر؟ اگر فارم ہے تو پھر بگ بیش کے شاندار پرفارمنس کو نظر انداز کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ حتمی اسکواڈ میں اگر حارث کو شامل نہ کیا گیا تو یہ پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک بڑا نقصان ہوگا۔
آپ کو کیا لگتا ہے؟ کیا حارث رؤف کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کیا جانا چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!