آئینی عدالت کا بڑا حکم، مونال ریسٹورنٹ سے متعلق سابق فیصلہ کالعدم

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

اسلام آباد میں واقع معروف مونال ریسٹورنٹ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی آئینی عدالت نے پیر سوہاوہ مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اپیلیں منظور کر لی ہیں۔

عدالت نے اس معاملے میں جاری حکمِ امتناعی بھی ختم کر دیا اور قرار دیا کہ ملکیت سے متعلق حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ آزادانہ طور پر کرے گی۔

ٹرائل کورٹ کو جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت

آئینی عدالت نے ہدایت کی کہ ٹرائل کورٹس اس مقدمے کا جلد از جلد فیصلہ کریں اور ایسا کرتے ہوئے کسی بھی عدالتی آبزرویشن سے متاثر نہ ہوں۔

عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی نوعیت کے معاملات کا فیصلہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے اپنے دائرۂ اختیار کے مطابق کریں گے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کے اہم ریمارکس

سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ریگولیٹری باڈیز تمام فریقین کو مکمل حقِ سماعت فراہم کرنے کے بعد فیصلہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے میں بعض اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا، جبکہ کیس یا نظرثانی درخواست دائر کرنے پر بھی غیر ضروری سختی دکھائی گئی اور فیصلے میں ایسی باتیں شامل کی گئیں جن کا عدالتی کارروائی سے تعلق نہیں تھا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید کہا:

“ہم جذباتی فیصلے نہیں کریں گے۔”

وکیل کو بھی دلچسپ جواب

سماعت کے دوران وکیل احسن بھون نے عدالت سے کہا کہ عدالت نے کیس کا بہت باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے:

“عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کریں، ہم وہی فیصلہ دیں گے جو ریکارڈ پر موجود ہے، فیصلے میں الف لیلیٰ کی کہانی نہیں لکھیں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ سابقہ فیصلہ پڑھ کر محسوس ہوا کہ اس میں کئی ایسی باتیں بھی شامل تھیں جن کا عدالتی کارروائی سے تعلق نہیں تھا۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق آئینی عدالت کا یہ فیصلہ نہ صرف مونال ریسٹورنٹ کیس بلکہ آئندہ ایسے تنازعات میں بھی اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ملکیت اور انتظامی معاملات کو الگ الگ قانونی دائرہ کار میں دیکھا جائے گا، جبکہ متعلقہ اداروں اور ٹرائل کورٹس کو قانون کے مطابق آزادانہ فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

آپ کے خیال میں کیا مونال ریسٹورنٹ سے متعلق تنازع اب جلد منطقی انجام تک پہنچ جائے گا؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔