امریکا نے معاہدہ توڑا، اب ایران بھی ایم او یو پر عمل نہیں کرے گا، تہران

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

ایران نے اپنی سرزمین پر ہونے والے تازہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اب مؤثر نہیں رہی، کیونکہ واشنگٹن نے بار بار اس کی خلاف ورزی کی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے معاہدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی، تاہم امریکا مسلسل اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کرتا رہا، جس کے باعث اب تہران بھی اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا پابند نہیں رہا۔

امریکا پر معاہدہ توڑنے کا الزام

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جب تک دوسرا فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا، ایران بھی معاہدے پر عمل نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی حالیہ فوجی کارروائیوں نے گزشتہ کئی ماہ سے جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کر دیا ہے اور مذاکراتی عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

امریکی حملوں کی شدید مذمت

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان کے مطابق یہ کارروائیاں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

امریکا کا مؤقف

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر ایک اور مرحلے میں حملے کیے ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو محفوظ بنانا ہے۔

تہران کا ردعمل

ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مغربی ایشیا میں امن قائم کرنے کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز کے انتظام اور سکیورٹی سے متعلق ایران کے اقدامات میں مداخلت کرکے اس اہم عالمی بحری گزرگاہ میں ایک مرتبہ پھر عدم استحکام پیدا کیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی مداخلت کے باعث بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی بھی متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران کی جانب سے اسلام آباد ایم او یو کو غیر مؤثر قرار دینا خطے میں سفارتی کشیدگی کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں اور سخت بیانات اسی طرح جاری رہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، بحری تجارت اور بین الاقوامی سفارت کاری بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

آپ کے خیال میں کیا امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات دوبارہ بحال ہو سکیں گے یا خطہ مزید کشیدگی کی طرف بڑھے گا؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔