امریکی ایکسپورٹ-امپورٹ (ایگزم) بینک نے پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کے لیے 1 ارب 25 کروڑ ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں ایگزم بینک کے سربراہ جان یووانووچ نے بتایا کہ یہ قرض اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت امریکا 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے اہم معدنیات، جوہری توانائی اور گیس کی سپلائی کو نہ صرف اپنے ملک بلکہ اتحادی ممالک کے لیے بھی مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جان یووانووچ نے کہا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں پاکستان، مصر اور یورپ میں مختلف ترقیاتی کاموں پر توجہ دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک پہلے ان وسائل پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے، جو اب ان کے لیے قابل اعتماد یا مناسب نہیں رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “ہم وہ سب کچھ حاصل نہیں کر سکتے جس کی کوشش کر رہے ہیں، جب تک کہ اہم خام مال کی بنیادی سپلائی چین محفوظ، مستحکم اور فعال نہ ہو۔”
جان یووانووچ نے یہ بھی بتایا کہ بینک کے پاس کانگریس کی جانب سے مجاز کردہ 135 ارب ڈالر میں سے 100 ارب ڈالر اب بھی خرچ کے لیے دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینک کے ابتدائی معاہدوں میں نیویارک کی کمیوڈٹیز گروپ، ہارٹری پارٹنرز کی جانب سے مصر کو فراہم کی جانے والی 4 ارب ڈالر کی قدرتی گیس کے لیے کریڈٹ انشورنس گارنٹی بھی شامل ہے۔
ایگزم بینک نے اس معاملے پر مزید تبصرے کے لیے درخواست کا جواب نہیں دیا۔