وفاقی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ سنایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی درخواست عدم پیروی کے سبب خارج کی جاتی ہے۔
درخواست گزار ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس اعجاز اسحٰق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل تھے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے یہ پانچ ججز اپنے انٹرا کورٹ اپیل کے معاملے کو وفاقی آئینی عدالت میں سماعت کے لیے منتقل ہونے پر چیلنج کر رہے تھے۔ ان ججز نے ایک متفرق درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کی اپیل کا تعلق آئینی طور پر سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اور اسے واپس سپریم کورٹ بھیجا جانا چاہیے۔
یہ کیس دیگر ہائی کورٹس کے تین ججز کے وفاقی دارالحکومت میں تبادلے سے متعلق ہے۔ جون میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اس تبادلے کو غیر آئینی قرار نہ دینے کا فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی۔
اب یہ انٹرا کورٹ اپیل وفاقی آئینی عدالت میں مقرر کی گئی، جو 27ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کی گئی تھی۔ درخواست گزار ججز کا مؤقف ہے کہ یہ ترمیم آئین سے متصادم ہے، اور اس بنیاد پر اپیل کو سپریم کورٹ میں واپس بھیجا جانا چاہیے۔
