اسلام آباد: ملک میں زیرِ گردش 10 روپے کے کرنسی نوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے سے متعلق حکومتی کمیٹی کی اہم رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے۔
وزیرِ خزانہ کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی نے کرنسی مینجمنٹ سے متعلق اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی ہیں۔ یہ رپورٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن سے متعلق قوانین کے تحت تیار کی گئی۔
رپورٹ میں شامل اعداد و شمار کے مطابق 10 روپے کے کرنسی نوٹ کی اوسط عمر محض 6 سے 9 ماہ ہے، جبکہ اسی مالیت کے سکے کی اوسط عمر 20 سے 30 سال تک ہوتی ہے۔ یہی فرق حکومتی فیصلے کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دستاویز کے مطابق ملک میں ہر سال چھاپے جانے والے مجموعی نوٹوں میں تقریباً 35 فیصد حصہ صرف 10 روپے کے نوٹ پر مشتمل ہوتا ہے، جس سے چھپائی اور ترسیل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر 10 روپے کا سکہ مکمل طور پر متعارف کر دیا جائے تو آئندہ 10 برسوں میں کم از کم 40 سے 50 ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے۔ اس وقت 10 روپے کے نوٹ کی چھپائی، تبدیلی اور انتظامی اخراجات کا سالانہ تخمینہ 8 سے 10 ارب روپے بتایا گیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ سکے کی تیاری کی ابتدائی لاگت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، تاہم اس کی طویل عمر کے باعث دہائیوں تک دوبارہ تیاری کی ضرورت پیش نہیں آتی، جس سے قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
11