رمضان المبارک میں معدے کے مسائل سے کیسے بچا جائے؟ماہرین کے مفید مشورے

ماہِ رمضان میں روزمرہ معمولات اور کھانے کے اوقات میں اچانک تبدیلی کے باعث معدے سے متعلق مختلف شکایات عام ہو جاتی ہیں۔ گیس، تیزابیت، بدہضمی، قبض اور پیٹ کا پھولنا ایسے مسائل ہیں جو خصوصاً افطار کے بعد شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق ان تکالیف کی بنیادی وجہ غیر متوازن غذا، افطار کے وقت حد سے زیادہ کھانا اور سحری یا افطار کے فوراً بعد لیٹ جانے کی عادت ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان میں صرف یہ اہم نہیں کہ کیا کھایا جا رہا ہے بلکہ یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ کس انداز سے کھایا جا رہا ہے۔ کھانا آہستگی سے، اچھی طرح چبا کر اور اعتدال کے ساتھ کھانا چاہیے تاکہ معدے پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔ سحری میں اگرچہ دن بھر کے روزے کے پیش نظر پیٹ بھر کر کھانے کا رجحان پایا جاتا ہے، تاہم حد سے زیادہ کھانا نظامِ ہضم کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی طرح کھانے کے فوراً بعد لیٹ جانا معدے کے تیزاب کو اوپر کی طرف لاتا ہے، جس سے سینے میں جلن اور تیزابیت بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین طب معدے کے عام مسائل کے لیے ایک سادہ گھریلو نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں۔ اس نسخے کے مطابق سوکھا لیموں، انار دانہ، دیسی پودینہ اور سونف ہم وزن (مثلاً 50، 50 گرام) لے کر باریک پیس کر سفوف تیار کر لیا جائے۔ اس مرکب کا ایک چائے کا چمچ سحری اور افطار کے بعد پانی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو تیزابیت، گیس، منہ کا کڑوا پن، بدہضمی اور پیٹ کے اپھارے میں واضح کمی آ سکتی ہے۔

ماہرین نے اس عام تاثر کی بھی تردید کی ہے کہ بدہضمی یا سینے کی جلن کی صورت میں سافٹ ڈرنکس فائدہ دیتی ہیں۔ ان کے مطابق کاربونیٹیڈ مشروبات میں موجود گیس اور کیمیکل معدے کی تیزابیت کو مزید بڑھا دیتے ہیں، جس سے وقتی سکون کے بعد مسئلہ زیادہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔

اسی طرح افطار کے فوراً بعد چائے یا کافی پینا بھی مناسب نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ ان میں موجود کیفین معدے کی قدرتی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے اور ہاضمہ سست پڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں روزہ کھولنے کے بعد بھی بھاری پن اور جلن کی کیفیت برقرار رہتی ہے۔

ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ رمضان المبارک میں متوازن غذا، مناسب مقدار، زیادہ پانی کا استعمال اور کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی جیسی سادہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے نہ صرف معدے کے مسائل سے بچا جا سکتا ہے بلکہ پورا مہینہ صحت مند اور توانا انداز میں گزارا جا سکتا ہے۔