آرمی، ایئرفورس اور نیوی کے بعد ایک اور نئی فورس کے قیام کا فیصلہ

وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے یہ اجلاس آذربائیجان کے شہر باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے چیئر کیا۔

اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ آصف، بلال اظہر کیانی، رانا تنویر، رانا مبشر، عون چوہدری، ڈاکٹر شہزریٰ منصب، ریاض حسین پیر زادہ، قیصر احمد شیخ اور ملک رشید احمد سمیت دیگر حکومتی نمائندگان شریک تھے۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی وزیراعظم ہاؤس میں موجود اجلاس میں شریک ہوئے۔

وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کابینہ کو آئینی ترمیم کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جب کہ اٹارنی جنرل نے بھی اہم نکات پر بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، کابینہ اجلاس میں تین اہم آئینی ترامیم کی منظوری دی جائے گی، جن میں آئینی کورٹ کے قیام، ججز کی تبادلے کے طریقہ کار اور آرٹیکل 243 میں تبدیلی شامل ہے۔ مجموعی طور پر 27ویں ترمیم کے تحت آئین کے مختلف حصوں میں 46 ترامیم کی جائیں گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آرمی، ایئرفورس اور نیوی کے بعد اب ملک میں ایک چوتھی فورس — “آرمی راکٹ فورس” (ARFC) — تشکیل دی جائے گی۔ اس ترمیم کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کو “کمانڈر آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ بھی حاصل ہوگا، اور تمام عسکری کوآرڈینیشن انہی کے ماتحت ہوگی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ نئی راکٹ فورس میں اسٹرٹیجک پلان ڈویژن (SPD) بھی شامل ہوگی، جو اس سے قبل چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے ماتحت کام کرتی تھی۔ تاہم، اب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ “کمانڈر آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ متعارف کرایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق، کابینہ کی منظوری کے بعد 27ویں آئینی ترمیم کو آج سینیٹ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ سینیٹ میں پیشی کے بعد، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان پر مشتمل ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو تمام ترامیم کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کمیٹی میں مختلف جماعتوں کے نمائندے خصوصی طور پر شامل کیے جائیں گے۔