آپریشن غضب للحق میں 133 طالبان ہلاک، 200سے زائد زخمی ،پاکستانی شاہینوں کی کامیاب کارروائیاں

افغان طالبان رجیم کی جانب سے مبینہ بلااشتعال حملوں کے بعد پاکستان کی مسلح افواج کی جوابی کارروائی ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کے نام سے جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے دوران افغان طالبان کے متعدد عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اب تک ہونے والی کارروائیوں میں 133 طالبان جنگجو ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ مختلف مقامات پر فوجی ہیڈکوارٹرز، ٹینک، توپ خانے اور چوکیاں تباہ کی گئیں۔

اطلاعات کے مطابق کارروائیاں سرحدی کشیدگی کے تناظر میں کی جا رہی ہیں اور سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور شہری آبادی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ فضائی اور زمینی کارروائیوں میں افغان سرزمین پر قائم متعدد عسکری مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں کے دوران کابل میں دو بریگیڈ ہیڈکوارٹرز تباہ کیے گئے، جبکہ قندھار میں ایک کور ہیڈکوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق قندھار میں ایک ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹک بیس بھی تباہ کیا گیا، جب کہ پکتیا میں بھی ایک کور ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فضائی نگرانی کے دوران قندھار میں کسی مؤثر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور صورتِ حال سے یہ تاثر ملا کہ مخالف عناصر دفاعی پوزیشن اختیار کرچکے تھے۔

دوسری جانب افغان طالبان کی حکومت کے ترجمان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں بمباری کی تصدیق کی۔ افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق رات تقریباً ڈیڑھ بجے کابل میں ایک عسکری مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید یہ کہ پکتیا میں منصوری کور پر دو مرتبہ حملے کیے گئے، جبکہ قندھار میں نصف شب کے بعد پاکستانی طیاروں کی پرواز دیکھی گئی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی گئی، جس کا جواب پاکستانی فورسز نے مؤثر انداز میں دیا۔ باجوڑ کے ناوگئی سیکٹر اور خیبر کی وادی تیراہ میں بھرپور جوابی کارروائی کی گئی، جبکہ چترال سیکٹر میں ایک افغان چیک پوسٹ کو تباہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق مہمند کے گرسال سیکٹر میں بھی جوابی کارروائی کے دوران متعدد چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں اور تین جنگجو ہلاک ہوئے۔ اسی طرح ولی خان سیکٹر میں بھی ایک افغان پوسٹ مسمار کیے جانے کی خبر ہے۔ مزید بتایا گیا کہ باجوڑ کے مختلف مقامات پر دو چوکیاں تباہ کی گئیں اور افغان صوبہ پکتیکا کی ایک پوسٹ پر قبضہ کرلیا گیا، جس کے بعد مخالف عناصر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق کرم سیکٹر کے قریب بھی متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں آٹھ جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جبکہ انگوراڈہ میں بھی ایک پوسٹ تباہ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں اب تک 133 افغان طالبان ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے باضابطہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ صورتحال کے پیشِ نظر سرحدی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے اور دونوں جانب سے سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے کواڈ کاپٹرز کے ذریعے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں تمام کواڈ کاپٹرز مار گرائے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد پاکستانی فورسز نے ڈرونز کے ذریعے مبینہ طور پر طالبان رجیم کی مخصوص پوسٹوں کو ہدف بنایا۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ پلیٹ فارمز پر افغان طالبان کی جانب سے جھوٹے دعووں اور مبینہ فیک ویڈیوز کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں مکمل الرٹ ہیں اور کسی بھی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کشیدگی میں اضافے کے بعد سرحدی علاقوں میں گولہ باری کے واقعات بھی پیش آئے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ باجوڑ کے علاقے لغڑئی اور اس کے گرد و نواح میں مارٹر گولے گرے جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوئے، جن میں تین خواتین شامل ہیں۔ زخمیوں کو خار اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ گولہ باری کے دوران ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچا اور اس کی چھت اور دیگر حصے متاثر ہوئے۔

تاحال ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ سرحدی علاقوں میں صورتحال بدستور کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔