اسلام آباد:انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مختلف احتجاجی مقدمات میں بشریٰ بی بی سمیت تمام ملزمان کی گرفتاری سے روک دیا ہے۔ عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی 256 ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کے بعد تمام درخواستوں میں 19 جنوری 2026 تک توسیع کر دی۔
جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے مقدمات کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت میں دلچسپ مکالمہ بھی ہوا جب جج نے ریمارکس دیے کہ “مجھے یہ سال کوئی اچھا نہیں لگ رہا”، جس پر پی ٹی آئی کے وکلا نے مسکراتے ہوئے کہا: “سر، اگر یہ سال اچھا نہیں تو اگلے سال کی کوئی تاریخ دے دیں۔”
عدالت نے تمام ضمانتوں میں توسیع کرتے ہوئے مزید سماعت 19 جنوری 2026 تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر، عبدالقیوم نیازی، شہریار آفریدی سمیت دیگر شخصیات عدالت میں پیش ہوئیں، جبکہ عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل، شہرام ترکئی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے حاضری سے استثنا کی درخواستیں دائر کی گئیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات 26 نومبر کے احتجاج، 4 اکتوبر کے احتجاج، سنگجانی جلسے اور سپریم کورٹ کے باہر مظاہرے سے متعلق ہیں، جن میں توڑ پھوڑ، اشتعال انگیزی اور سڑکوں کی بندش کے الزامات شامل ہیں۔
عدالتی حکم کے مطابق اب کسی بھی ملزم کو مذکورہ مقدمات میں گرفتار نہیں کیا جا سکے گا، جب تک کہ توسیع شدہ ضمانتی مدت مکمل نہیں ہو جاتی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ فیصلہ پی ٹی آئی قیادت کے لیے عارضی ریلیف ضرور ہے، مگر ان مقدمات کے مستقبل کا انحصار اگلی سماعتوں میں پیش ہونے والے شواہد اور عدالتی دلائل پر ہوگا۔