آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کو 7برس مکمل، دشمن کو دیا گیا تاریخی جواب آج بھی یادگار

لاہور:پاکستان کی جانب سے بھارت کی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دینے والے تاریخی اقدام آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کو سات برس مکمل ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ مسلح افواج کی قیادت نے افسران اور جوانوں کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ قیادت کا کہنا تھا کہ پوری قوم اپنے شہدا کو سلام پیش کرتی ہے اور وطنِ عزیز کی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کیا جاتا رہے گا۔

ترجمان کے مطابق ساتویں سالگرہ پر افواجِ پاکستان کے سربراہان نے اس کامیاب کارروائی کو قومی عزم اور عسکری مہارت کی علامت قرار دیا۔ اس موقع پر سید عاصم منیر، نوید اشرف اور ظہیر احمد بابر سدھو نے اپنے پیغامات میں افسران و جوانوں کے حوصلے، عزم اور پیشہ ورانہ تیاری کو سراہا اور کہا کہ افواجِ پاکستان ہر چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

یہ آپریشن 27 فروری 2019 کو بھارت کی بلااشتعال کارروائی کے جواب میں شروع کیا گیا تھا، جب ایک روز قبل بھارتی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول عبور کرتے ہوئے بالاکوٹ کے قریب حملے کی کوشش کی۔ اس کے جواب میں پاک فضائیہ نے محدود مگر مؤثر کارروائی کی، جس کا مقصد جنگ کو وسعت دینا نہیں بلکہ اسٹریٹیجک توازن بحال کرنا اور یہ واضح کرنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوگا۔

آپریشن کے دوران پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی فضائیہ کے مِگ 21 طیارے کو مار گرایا اور پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو حراست میں لے لیا۔ اسی دوران بھارتی افواج کی جانب سے مبینہ طور پر اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے کا واقعہ بھی پیش آیا جس میں جانی نقصان ہوا۔

پاکستان نے عالمی عسکری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے گرفتار پائلٹ کے ساتھ مہذب سلوک کیا اور بعد ازاں اسے خیر سگالی کے جذبے کے تحت رہا کر دیا۔ عالمی سطح پر اس اقدام کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان کے مثبت اور سنجیدہ طرزِ عمل سے تعبیر کیا گیا۔

آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کو دفاعی تاریخ میں ایک ایسے اقدام کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس میں مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، بروقت انٹیلیجنس اور درست ہدف بندی کے ذریعے پاکستان نے اپنی آپریشنل تیاری اور عسکری مہارت کا عملی مظاہرہ کیا۔ قیادت نے اس موقع پر قومی سلامتی، علاقائی امن اور عالمی استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسلح افواج ہر خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس موقع پر کہا کہ مربوط حکمت عملی اور اعلیٰ تربیت نے دشمن کی فضائی طاقت کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی پاکستان ہر محاذ پر چوکنا ہے اور کسی بھی نئی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

سات برس بعد بھی آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ قومی دفاع، جرات اور ذمہ دارانہ ریاستی رویے کی ایک روشن مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جس نے نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سنجیدہ اور امن پسند پالیسی کو بھی اجاگر کیا۔