لاہور:اسلام آباد میں سولر سسٹمز سے متعلق پھیلنے والی افواہوں نے صارفین میں بے چینی پیدا کر دی تھی، تاہم اب متعلقہ ادارے نے صورتحال پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے تمام غلط فہمیوں کی تردید کر دی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے سولر لائسنسنگ سے متعلق جاری بحث پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے گردش کرنے والی کئی باتیں درست نہیں اور عوام میں غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں۔
نیپرا حکام کے مطابق سولر نیٹ بلنگ سے فائدہ اٹھانے والے تمام صارفین کے لیے نیپرا سے منظوری لینا ضروری ہوگا، اور اس عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مزید وضاحت میں بتایا گیا کہ 25 کلو واٹ سے کم صلاحیت والے کنکشنز کی منظوری کا اختیار پہلے سے ہی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے پاس موجود تھا اور یہ طریقہ کار اسی طرح جاری ہے۔
حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ آف گرڈ صارفین کا نیپرا کی منظوری کے عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان پر یہ قواعد لاگو نہیں ہوتے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ پرانے ریگولیٹری نظام کے تحت 25 کلو واٹ سے زیادہ صلاحیت والے سولر کنکشنز کی منظوری نیپرا خود دیتی تھی، تاہم اب طریقہ کار میں تبدیلی لائی گئی ہے۔
نیٹ آن گرڈ سولر کنکشن کے حوالے سے حکام نے کہا کہ اس پر صرف ایک مرتبہ کی فیس مقرر کی گئی ہے جو ایک ہزار روپے فی کلو واٹ ہے۔
آخر میں نیپرا نے یہ بھی واضح کیا کہ سولر سسٹمز پر کسی قسم کا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، اور اس حوالے سے سامنے آنے والی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔