کاکروچ جنتا پارٹی نے مودی سرکار کی مشکلات میں اضافہ کر دیا

بھارت میں بیروزگاری اور حکومتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی بے چینی کے باعث نوجوانوں میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ ناقدین مودی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق حکومتی اقدامات سے نالاں نوجوان اب “کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے سامنے آنے والے ایک پلیٹ فارم کے گرد منظم ہونا شروع ہو گئے ہیں، جو بتدریج ایک علامتی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

عالمی جریدے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تحریک مودی حکومت اور حکمران جماعت بی جے پی کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کی نمائندگی کر رہی ہے اور اس کے اثرات سری لنکا اور بنگلہ دیش میں دیکھے جانے والے عوامی احتجاجی رجحانات سے جوڑے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ابتدا میں طنزیہ نوعیت کی اس مہم کو بھارتی نوجوانوں نے رفتہ رفتہ ایک ایسی علامتی جماعت میں تبدیل کر دیا ہے جو موجودہ حکومت کے خلاف عوامی ناراضی کا اظہار بن چکی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اس وقت سیاسی چیلنجز اور اقتدار کے تحفظ پر زیادہ توجہ دیتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ عوام کو درپیش بنیادی مسائل کو خاطر خواہ توجہ نہیں مل رہی۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق نوجوانوں میں اس تحریک کی بڑھتی ہوئی پذیرائی مستقبل میں بھارتی سیاست پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور حکمران جماعت کے لیے نئے سیاسی چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) بھارت میں 2026 میں سامنے آنے والی ایک طنزیہ اور احتجاجی تحریک ہے، جس کا آغاز سوشل میڈیا پر ہوا۔ اس تحریک کی بنیاد اس وقت پڑی جب بھارتی عدلیہ سے منسوب ایک بیان میں بعض بیروزگار نوجوانوں کے لیے “کاکروچ” کی اصطلاح استعمال ہونے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ نوجوانوں نے اسی لفظ کو احتجاج اور مزاحمت کی علامت میں تبدیل کر دیا۔

اس تحریک کے بانی Abhijeet Dipke ہیں۔ ابتدا میں یہ ایک آن لائن مزاحیہ مہم تھی، تاہم جلد ہی اس نے لاکھوں نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ تحریک کے حامی بیروزگاری، مہنگائی، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور حکومتی کارکردگی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔

کاکروچ کو اس تحریک نے ایک علامتی نشان کے طور پر اختیار کیا ہے، جسے مشکل حالات میں زندہ رہنے اور مزاحمت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس تحریک نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی اور بعد ازاں اس کے حامیوں نے مختلف شہروں میں احتجاجی اجتماعات بھی منعقد کیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تحریک بھارت کے نوجوانوں میں موجود بے چینی اور مایوسی کی عکاسی کرتی ہے، تاہم اس بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں کہ آیا یہ ایک مستقل سیاسی قوت بن سکے گی یا محض ایک سوشل میڈیا رجحان ثابت ہوگی۔