نیویارک:واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ ڈیل نہ کرنے کے ممکنہ نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری نیوکلیئر مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شریک ہوں گے اور یہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
ٹرمپ کے قریبی معاونین اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر جنیوا پہنچ چکے ہیں، جہاں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان جوہری پروگرام پر دوسرے مرحلے کی بات چیت متوقع ہے۔ صدر نے ایرانی مذاکرات کاروں کو سخت مؤقف رکھنے والے ڈیلرز قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اس بار زیادہ لچک دکھائیں گے۔
گزشتہ برس مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔
صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ جاری سفارتی عمل غزہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے آگے بڑھے گا۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ “بورڈ آف پیس” اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ خطے میں استحکام کو فروغ دیا جاسکے۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں غیر ملکی میڈیا پر عائد پابندیوں سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا، تاہم عندیہ دیا کہ جلد کئی پابندیاں ختم ہوتی دکھائی دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں مجموعی طور پر امن کی فضا ہے، اگرچہ بعض مقامات پر کشیدگی موجود ہے۔
2