کراچی میں پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی پہلی سماعت منعقد ہوئی، جس میں 33 شہدا کے 23 لواحقین نے اپنے بیانات قلمبند کرائے۔ سماعت کے دوران متعدد متاثرین آبدیدہ ہوگئے اور امدادی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے۔
نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق تحقیقات کرنے والے کمیشن کی سربراہی جسٹس آغا فیصل نے کی۔ سماعت ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے دفتر میں ہوئی، جہاں کمیشن اراکین اور متاثرہ خاندانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ کارروائی سے قبل شہدا کے لیے دعا کی گئی، جبکہ کمیشن کے سربراہ نے لواحقین سے ملاقات کر کے اظہارِ افسوس کیا۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ ٹریبونل کا مقصد مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام اور جانی نقصان سے بچاؤ کے لیے سفارشات مرتب کرنا ہے۔ انہوں نے لواحقین کو سوالنامہ فراہم کرتے ہوئے مکمل تعاون کی درخواست کی۔
سماعت کے دوران متعدد لواحقین نے دعویٰ کیا کہ آگ بجھانے کے لیے جدید آلات موجود نہیں تھے اور فائر بریگیڈ کو پانی کی شدید کمی کا سامنا تھا۔ کئی افراد کا کہنا تھا کہ عمارت کے اندر بروقت ریسکیو آپریشن نہیں کیا گیا اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نکلنے کی کوشش کرتے رہے۔
ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے آخری کال میں کہا تھا کہ دم گھٹ رہا ہے اور فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا ہے۔ ایک اور شہری نے کہا کہ عمارت میں اندھیرا تھا، اعلانات کا کوئی مؤثر نظام استعمال نہیں کیا گیا اور دروازے بند ہونے کے باعث لوگ باہر نہ نکل سکے۔
کئی لواحقین نے الزام لگایا کہ ریسکیو ادارے غیر پیشہ ورانہ انداز میں کام کر رہے تھے، جبکہ بعض نے کہا کہ پانی اور ڈیزل کا بندوبست خود کرنے کو کہا گیا۔ بعض افراد نے انتظامیہ پر غفلت اور ناقص پالیسیوں کا الزام عائد کیا۔
متاثرین کے مطابق کئی لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کئی دن بعد ممکن ہوئی۔ بعض خاندانوں نے بتایا کہ انہیں مختلف دفاتر کے چکر لگانے پڑے اور سہولتوں کا فقدان تھا۔ کچھ لواحقین نے ون ونڈو آپریشن کے قیام کا مطالبہ کیا تاکہ متاثرہ خاندانوں کو دربدر نہ ہونا پڑے۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ کمیشن کو انتظامیہ کی جانب سے 64 لواحقین کی فہرست فراہم کی گئی ہے اور مزید بیانات بھی قلمبند کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام حقائق کی روشنی میں سفارشات تیار کی جائیں گی تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جاسکے۔
سماعت کے اختتام پر کمیشن نے متاثرین سے سوالنامہ مکمل کر کے سیکریٹریٹ یا ڈی سی ساؤتھ آفس میں جمع کرانے کی اپیل کی۔
3