ٹوکیو : اوساکا کو ایک نامعلوم عطیہ دہندہ کی جانب سے 560 ملین ین مالیت کی سونے کی اینٹوں کا غیر معمولی عطیہ موصول ہوا ہے، جس کی پاکستانی مالیت ایک ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ سونا شہر کی بوسیدہ اور پرانی پانی کی پائپ لائنوں کی مرمت اور بہتری کے لیے استعمال کرنے کی ہدایت کے ساتھ دیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مجموعی طور پر 21 کلوگرام (تقریباً 46 پاؤنڈ) وزنی سونے کی اینٹیں نومبر میں اوساکا سٹی واٹر ورکس بیورو کے حوالے کی گئیں۔
اوساکا کے میئر ہائیڈیوکی یوکویاما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عطیہ دینے والے شخص نے واضح طور پر خواہش ظاہر کی ہے کہ یہ خطیر رقم خستہ حال آبی پائپ لائنوں کی مرمت پر خرچ کی جائے۔ میئر کے بقول یہ ایک حیران کن عطیہ ہے جسے سن کر وہ چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ پرانی آبی لائنوں کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز درکار ہوتے ہیں اور اس غیر معمولی تعاون پر جتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔
شہری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عطیہ دہندہ کی خواہش کا مکمل احترام کیا جائے گا اور رقم واٹر ورکس منصوبوں کی بہتری کے لیے ہی استعمال ہوگی۔
واضح رہے کہ اوساکا کے آبی نظام سے متعلق خدشات اس وقت شدت اختیار کر گئے تھے جب گزشتہ برس ایک ٹرک سڑک میں بننے والے بڑے گڑھے میں جا گرا تھا، جس کے نتیجے میں ڈرائیور جان کی بازی ہار گیا۔ اس واقعے کو سائی تاما میں سیوریج لائن کو پہنچنے والے نقصان سے جوڑا گیا تھا، جو ٹوکیو کے شمال میں واقع ہے۔
اوساکا سٹی واٹر ورکس کے اہلکار ایجی کوتانی نے اے پی کو بتایا کہ مارچ 2025 پر ختم ہونے والے مالی سال کے دوران شہر کی سڑکوں کے نیچے پانی کی پائپ لائنوں میں رساؤ کے 92 واقعات رپورٹ ہوئے۔
تقریباً 28 لاکھ آبادی کے ساتھ اوساکا جاپان کا تیسرا بڑا شہر ہے اور مغربی جاپان کا ایک اہم معاشی و صنعتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ جاپان کا بیشتر مرکزی عوامی انفراسٹرکچر دوسری جنگِ عظیم کے بعد تیز رفتار معاشی ترقی کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا، جو اب بتدریج مرمت اور جدید کاری کا متقاضی ہے۔
9