آبنائے ہرمز میں جہازوں کی بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے ،رپورٹس

لاہور:آبنائے ہرمز میں جمعرات کی صبح بڑی تعداد میں بحری جہازوں کے رک جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث عالمی بحری آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ میں متعدد جہاز کھڑے ہیں، جس کی بنیادی وجوہات سکیورٹی خدشات اور نئی پابندیاں بتائی جا رہی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کے حوالے سے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کے لیے پاسدارانِ انقلاب نیوی سے پیشگی رابطہ اور مقررہ راستوں کی پابندی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق یہ اقدامات خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے اہم بحری راستوں میں اینٹی شپ بارودی سرنگوں کی ممکنہ موجودگی کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔

یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان ایک روز قبل طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سامنے آئی، جس کا مقصد 28 فروری کو تہران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران اور پاکستان کے حکام کا مؤقف ہے کہ اس جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، تاہم اسرائیل نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے بدھ کے روز لبنان کے مختلف علاقوں میں شدید فضائی حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔