خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ
سوات ایکسپریس وے ایک بار پھر خون سے رنگ گئی، جہاں اسماعیلیہ کے قریب پیش آنے والے خوفناک ٹریفک حادثے نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ تیز رفتار ہائی ایس وین سڑک کنارے کھڑی ایک بس سے جا ٹکرائی جس کے نتیجے میں 16 مسافر جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔ حادثے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور جائے حادثہ پر چیخ و پکار مچ گئی۔
موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق حادثہ ہائی ایس وین کے ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق وین تیز رفتاری کے عالم میں سفر کر رہی تھی اور ڈرائیور نے بروقت گاڑی پر قابو نہ پایا جس کے باعث وہ سڑک کنارے کھڑی بس سے جا ٹکرائی۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے بیشتر افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر مردان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق حادثے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں، تاہم گاڑی بری طرح تباہ ہونے کے باعث لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور چند لمحوں میں علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
موٹر وے پولیس کے مطابق بس کراچی سے بونیر جا رہی تھی جبکہ ہائی ایس وین راولپنڈی سے دیر کی جانب رواں دواں تھی۔ حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حادثے کی تمام وجوہات سامنے لائی جا سکیں۔
پاکستان میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات ایک سنگین قومی مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ تیز رفتاری، ڈرائیورز کی غفلت، ناقص سڑک رویہ اور تھکاوٹ جیسے عوامل ہر سال سینکڑوں قیمتی جانیں نگل رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر سختی سے عملدرآمد بھی ضروری ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس المناک حادثے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر بڑے حادثے کے بعد چند دن شور ضرور مچتا ہے لیکن پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کی کمزوری اور ڈرائیورز کی غیر ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اوور اسپیڈنگ، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز اور طویل سفر کے دوران حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی نہیں ہوگی، ایسے حادثات رکنا مشکل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ٹریفک قوانین کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ کئی ڈرائیور مسلسل کئی کئی گھنٹے گاڑی چلاتے رہتے ہیں، جس کے باعث تھکاوٹ اور غفلت جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق حکومت کو موٹرویز اور ایکسپریس ویز پر جدید مانیٹرنگ سسٹم، اسپیڈ کنٹرول اور ڈرائیور فٹنس چیکنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔
عوامی سطح پر بھی اس حادثے کے بعد شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک غفلت کے باعث لوگ اپنی جانیں گنواتے رہیں گے؟ پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صارف نے لکھا کہ “ہر حادثے کے بعد صرف تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے، عملی اقدامات کب ہوں گے؟” جبکہ ایک اور شہری نے کہا کہ “موٹر ویز محفوظ سمجھی جاتی ہیں، لیکن اگر ڈرائیور ہی غیر ذمہ دار ہوں تو کوئی سڑک محفوظ نہیں رہتی۔”
ٹریفک ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیورز کیلئے نفسیاتی اور جسمانی فٹنس ٹیسٹ لازمی ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ رات کے اوقات میں طویل سفر کرنے والی گاڑیوں کی خصوصی نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ ڈرائیور کی تھکاوٹ حادثات کا سبب نہ بنے۔
اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر کئی خاندانوں کے چراغ گل کر دیے۔ عید الاضحیٰ سے قبل پیش آنے والے اس حادثے نے خوشیوں کو غم میں بدل دیا اور پورا ملک سوگوار دکھائی دے رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس بار بھی یہ حادثہ صرف خبروں تک محدود رہتا ہے یا واقعی ٹریفک نظام میں کوئی بڑی تبدیلی لائی جاتی ہے۔
عوامی سوال
کیا پاکستان میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد ایسے حادثات کم کر سکتا ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں