ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پرنئی شرط عائد کر دی

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک دوبارہ معمول پر آ گئی ہے، تاہم ایرانی پاسداران انقلاب نے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کے لیے نئی انتظامی پابندیاں اور شرائط عائد کر دی ہیں۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اب ہر تجارتی یا دیگر بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخلے یا وہاں سے گزرنے کے لیے کم از کم 48 گھنٹے پہلے اپنی ٹرانزٹ درخواست جمع کرانا لازمی ہوگا۔

ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا کہ درخواست کے ساتھ تمام ضروری تفصیلات فراہم کرنا بھی شرط ہوگا، تاکہ گزرگاہ کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ، تاخیر یا انتظامی الجھن سے بچا جا سکے اور ٹریفک کو مؤثر انداز میں منظم رکھا جا سکے۔

ایرانی حکام نے نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کی وضاحت کی کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد بحری آمدورفت کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنا، جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا اور اس حساس سمندری راستے میں انتظامی مسائل کو کم کرنا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں، جبکہ امریکی حکام نے ایران کی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے۔

آبنائے دنیا کی نہایت اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے۔ اس سے قبل کشیدگی کے دوران ایران نے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں اس راستے کو بند کر دیا تھا۔

اس بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی، جس سے سپلائی چین میں خلل پڑا اور پٹرول کی قلت نے عالمی منڈی میں قیمتوں کو تیزی سے اوپر پہنچا دیا تھا۔ اس صورتحال کے اثرات روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی نمایاں طور پر دیکھے گئے۔

حالیہ ایران امریکا مفاہمتی یادداشت میں سب سے اہم نکتہ یہی تھا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھول دیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ امریکی جانب سے ایرانی بحری ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ بھی یقینی بنایا جائے۔