موسمِ گرما کے آغاز کے ساتھ ہی دیگر طبی شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، اور انہی میں ایک عام مسئلہ نکسیر پھوٹنا یعنی ناک سے خون آنا بھی شامل ہے، جو اس موسم میں نسبتاً زیادہ رپورٹ کیا جاتا ہے۔
شدید گرمی اور دھوپ میں اچانک ناک سے خون بہنے کی صورت اکثر لوگ پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں، تاہم طبی ماہرین واضح کرتے ہیں کہ بیشتر کیسز میں یہ کیفیت فوری طور پر خطرناک نہیں ہوتی۔
ڈاکٹروں کے مطابق گرمیوں میں نکسیر پھوٹنے کی کئی وجوہات سامنے آتی ہیں۔ ان میں ناک کے اندرونی حصے کا خشک ہو جانا، طویل وقت تک ائیر کنڈیشنڈ ماحول میں رہنا اور ناک کی باریک جھلی کا متاثر ہونا شامل ہیں۔ بعض افراد میں ہائی بلڈ پریشر اور ناک کے اندر سوزش بھی اس مسئلے کو بڑھا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ناک سے خون آنا شروع ہو تو سب سے اہم بات یہ ہے کہ گھبراہٹ سے بچا جائے اور خود کو پرسکون رکھا جائے۔ ایسی حالت میں تیز چلنے، بھاگنے یا جسمانی مشقت سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے اور فوری طور پر بیٹھ جانا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے تاکہ جسم پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔
اکثر افراد اس موقع پر غلطی سے سر کو پیچھے کی جانب جھکا لیتے ہیں یا لیٹ جاتے ہیں، لیکن جدید طبی رہنمائی کے مطابق یہ طریقہ درست نہیں ہے کیونکہ اس سے خون حلق کی طرف جا کر کھانسی، متلی یا سانس لینے میں دشواری پیدا کر سکتا ہے۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ متاثرہ شخص اپنا سر ہلکا سا آگے کی طرف جھکا کر بیٹھے تاکہ خون باہر کی سمت بہہ سکے اور حلق میں داخل نہ ہو۔ اس دوران منہ سے سانس لینا بہتر رہتا ہے تاکہ ناک کو آرام ملے اور خون کے جمنے کا عمل بہتر طور پر شروع ہو سکے۔
اگر خون بہنا نہ رکے تو ناک کو نرمی سے دبانا بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے اندرونی دباؤ پیدا ہوتا ہے اور خون کا اخراج کم ہو جاتا ہے۔ تاہم اس عمل میں زیادہ زور سے ناک دبانے سے گریز کرنا ضروری ہے۔
طبی ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ برف کا استعمال نکسیر کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ برف کو کسی صاف کپڑے میں لپیٹ کر ناک اور اس کے اطراف رکھنے سے سوزش کم ہوتی ہے اور خون کا بہاؤ جلدی رکنے میں مدد ملتی ہے۔
آئندہ اس مسئلے سے بچاؤ کے لیے پانی کا زیادہ استعمال، ناک کی نمی برقرار رکھنا اور ائیر کنڈیشنڈ ماحول میں احتیاط ضروری قرار دی جاتی ہے۔ رات کے وقت ناک کے اندر ہلکی مقدار میں پیٹرولیم جیلی یا ناریل کا تیل لگانے سے خشکی میں کمی آ سکتی ہے۔
ماہرین مزید کہتے ہیں کہ دھوپ میں نکلتے وقت سر کو ڈھانپنا چاہیے، جبکہ ناک میں انگلی ڈالنے یا ناخن چبانے جیسی عادات سے اجتناب بھی ضروری ہے کیونکہ یہ عوامل نکسیر کے امکانات بڑھا سکتے ہیں۔ اسی طرح زیادہ مرچ مصالحے اور گرم تاثیر رکھنے والی غذاؤں سے پرہیز کرنے کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے۔
اگر نکسیر بار بار ہونے لگے یا خون طویل وقت تک بند نہ ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ کسی ممکنہ بنیادی طبی مسئلے کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔