امریکی اڈوں کے استعمال پر تنازع، ایران کی دھمکی کے بعد برطانیہ کا سخت بیان

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی وارننگ کے بعد برطانیہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج ملک اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

ایران کی وارننگ

پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا ایران کے خلاف کارروائی کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال کرتا ہے تو ایسے اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یہ وارننگ امریکی بمبار طیاروں کو برطانوی اڈوں سے پرواز کی اجازت دیے جانے کے تناظر میں سامنے آئی۔

برطانیہ کا سخت مؤقف

جمعرات کو برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ برطانیہ کی مسلح افواج ملک کو ہر قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، خواہ خطرہ ملکی سرزمین پر ہو یا بیرونِ ملک سے درپیش ہو۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار رہتا ہے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

دفاعی نظام مکمل فعال

حکومتی ترجمان کے مطابق برطانیہ نے فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک جامع اور تہہ دار دفاعی نظام قائم کر رکھا ہے، جس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس مشترکہ طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اس دفاعی حکمت عملی میں اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ بھی قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

امریکی اڈوں کے استعمال کا معاملہ

رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے اس معاہدے کے دوبارہ فعال ہونے سے متعلق آگاہ کیا گیا، جس کے تحت امریکا کو مخصوص حالات میں برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

اس پیش رفت نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں برطانیہ کے کردار پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی تشویش

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران، امریکا اور ان کے اتحادیوں کے درمیان سخت بیانات اور ممکنہ عسکری اقدامات سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران اور برطانیہ کے تازہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں سفارتی کشیدگی کے ساتھ ساتھ عسکری تناؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں مختلف فریقین کے دعووں اور بیانات کے ساتھ سرکاری مؤقف اور آزاد ذرائع سے دستیاب معلومات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر سفارتی کوششیں مؤثر ثابت نہ ہوئیں تو اس کشیدگی کے مزید پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔

آپ کے خیال میں موجودہ صورتحال میں سفارت کاری خطے کو بڑے تصادم سے بچا سکتی ہے یا کشیدگی مزید بڑھے گی؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔