پیٹرول ختم، بجلی کا نظام بری طرح متاثر، امریکہ ذمہ دار قرار

عالمی سطح پر توانائی کے بحران نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ممالک میں پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسی صورتحال کے دوران کیوبا بھی سنگین ایندھن بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے اور بڑے علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق کیوبا میں ایندھن کی شدید کمی نے توانائی کے پورے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں تیل اور ڈیزل کے ذخائر انتہائی کم سطح پر پہنچ چکے ہیں، جس کے باعث بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

توانائی کے وزیر نے ایک پریس بریفنگ میں صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے بتایا کہ ملک اس وقت زیادہ تر مقامی گیس اور محدود پیمانے پر حاصل ہونے والے خام تیل پر انحصار کر رہا ہے، تاہم یہ وسائل ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرونی ذرائع سے ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، جس نے بجلی کے نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ملک کے مشرقی حصوں میں بجلی کی طویل بندش نے معمولات زندگی بری طرح متاثر کیے ہیں، جہاں بعض علاقوں میں روزانہ کئی کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ اور بعض مقامات پر مکمل بلیک آؤٹ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اندازوں کے مطابق لاکھوں افراد اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔

صدرِ مملکت نے موجودہ بحران کا ذمہ دار بیرونی دباؤ اور پابندیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی کی سپلائی پر رکاوٹیں صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان بڑا فرق پیدا ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے نظام مسلسل عدم توازن کا شکار ہے۔

دارالحکومت ہوانا سمیت مختلف شہروں میں عوام نے طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر حکومت سے فوری ریلیف کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر علامتی احتجاج کے طور پر برتن بجا کر اپنی ناراضی کا اظہار کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق کیوبا کا توانائی نظام زیادہ تر پرانے تھرمل پاور پلانٹس پر مشتمل ہے، جن کی عمر کئی دہائیوں پر محیط ہے اور ان کی بار بار خرابی نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

ملک پہلے ہی خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی قلت جیسے مسائل سے دوچار ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

رواں سال کے آغاز میں امریکہ کی جانب سے ایندھن کی ترسیل پر مزید سخت پابندیوں کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی، جس کے بعد بیرونی سپلائی تقریباً محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

دوسری جانب امریکہ کی جانب سے امداد کی پیشکش بھی سامنے آئی، تاہم اس کے ساتھ یہ شرط رکھی گئی کہ امدادی رقوم حکومت کے بجائے مذہبی اداروں کے ذریعے تقسیم کی جائیں۔ کیوبا کی حکومت نے اس پیشکش پر محتاط اور غیر حتمی ردعمل دیا ہے۔

عالمی مبصرین کے مطابق موجودہ توانائی بحران نے نہ صرف کیوبا بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی اثرات ڈالے ہیں، جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔