رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
Donald Trump نے Iran کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے تہران کو نئی وارننگ جاری کردی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ مزید زیادہ صبر کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور ایران کو فوری طور پر واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہیے۔
Fox News کو دیے گئے انٹرویو میں Donald Trump نے کہا، “میں زیادہ دیر تک انتظار نہیں کروں گا، انہیں معاہدہ کرنا چاہیے۔”
انہوں نے ایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے کو “سیکیورٹی سے زیادہ تاثر” کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ ذاتی طور پر یورینیم واپس لینے کے حق میں ہیں، تاہم یہ اقدام زیادہ تر عوامی تاثر کے لیے اہم ہے۔
امریکا اور ایران کے مؤقف میں واضح اختلاف
United States مسلسل یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ایران اپنے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر ملک سے باہر منتقل کرے اور مقامی سطح پر افزودگی کا عمل ترک کر دے۔
دوسری جانب Iran کا مؤقف ہے کہ Treaty on the Non-Proliferation of Nuclear Weapons کے تحت اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی اور یورینیم افزودگی کا مکمل حق حاصل ہے۔ تہران مسلسل اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کی سخت جوابی دھمکی
ایرانی پارلیمان کے ترجمان Ebrahim Rezaei نے حالیہ بیان میں خبردار کیا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو تہران یورینیم کو 90 فیصد تک افزودہ کر سکتا ہے، جو ہتھیاروں کے درجے کی سطح سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا بیان خطے میں جاری کشیدگی کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے کیونکہ 90 فیصد افزودگی عالمی سطح پر انتہائی حساس معاملہ تصور کی جاتی ہے۔
جنگ بندی نازک مرحلے میں داخل
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان پانچ ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری جنگ بندی اس وقت انتہائی نازک صورتحال سے گزر رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کسی حتمی معاہدے کے آثار واضح نہیں۔
یاد رہے کہ United States اور Israel نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس تنازع کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک جبکہ لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
انسانی حقوق تنظیموں کی تنقید
انسانی حقوق کی تنظیموں نے جنگ کے دوران Donald Trump کے بعض بیانات پر بھی تنقید کی ہے، جن میں ایران کی مکمل تباہی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے جیسے سخت بیانات شامل تھے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی، تیل کی منڈیوں اور سفارتی توازن کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔