معرکہ حق کو پنجاب کے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ

لاہور:پنجاب میں قومی بیانیے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صوبائی حکومت نے نہ صرف تعلیمی میدان میں بڑی تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے بلکہ ثقافتی اور سماجی سطح پر بھی قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کا خاکہ تیار کرلیا ہے۔ اس سلسلے میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کئی بڑے فیصلے کیے گئے جن کے اثرات مستقبل کی تعلیمی اور سماجی پالیسیوں پر نمایاں دکھائی دے سکتے ہیں۔

لاہور میں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی سربراہی میں انفارمیشن اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری اطلاعات طاہر رضا ہمدانی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ صوبے کے نصاب میں حب الوطنی، قومی شعور اور “معرکہ حق” سے متعلق مضامین کو شامل کیا جائے تاکہ طلبہ میں قومی ذمہ داری اور اتحاد کے جذبے کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔

اجلاس میں یہ نکتہ بھی زیرِ بحث آیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے مقابلے میں نجی اسکولوں میں اس نوعیت کی سرگرمیاں محدود رہیں۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ نجی تعلیمی اداروں میں بھی قومی موضوعات پر تقریبات، سیمینارز اور خصوصی پروگرام منعقد کیے جائیں۔

کمیٹی نے ثقافتی شعبے میں بھی اہم فیصلے کیے۔ اجلاس میں طے پایا کہ فلم فنڈ کے تحت “معرکہ حق” اور قومی ہم آہنگی کے موضوعات پر مبنی فلمیں تیار کی جائیں گی۔ اسی طرح الحمرا آرٹس کونسل کے پلیٹ فارم سے شہید لیاقت پر ڈرامہ پروڈیوس کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دی گئی۔ شرکاء نے قومی یکجہتی اور عوامی شعور کو فروغ دینے کے لیے بھرپور آگاہی مہم شروع کرنے پر بھی زور دیا۔

اجلاس کے دوران شرکاء نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے درخواست کی کہ وہ تعلیمی اداروں میں اپنے دوروں اور نوجوانوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں تاکہ طلبہ کو قومی معاملات سے آگاہی حاصل ہو سکے۔

دوسری جانب محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے بھی اہم ہدایات جاری کی گئیں۔ متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر نفرت انگیز مواد کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا حکم دیا گیا۔ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ محکمہ اطلاعات اور محکمہ داخلہ مشترکہ طور پر ایک خصوصی سیل قائم کریں گے جو اشتعال انگیز مواد کی فوری نشاندہی اور بروقت تدارک کو یقینی بنائے گا۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ محرم الحرام کے دوران فرقہ واریت، اشتعال انگیزی یا نفرت پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، اور ایسے عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔