خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک اہم آئینی و قانونی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نیب سے متعلق اپیلیں اور ضمانت کے مقدمات سننے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں بلکہ وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ نیب قانون کی شق 32 اور 32-اے کے تحت سپریم کورٹ کو ان مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں، لہٰذا نیب سے متعلق تمام اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائیں گی۔
نیب کیسز وفاقی آئینی عدالت منتقل
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ آرٹیکل 175-اے اور 175-ایف کے تحت نیب کے تمام زیرِ التوا مقدمات، اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت کو منتقل تصور کی جائیں گی۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو کی گئی ترمیم کے بعد نیب مقدمات کے لیے قانونی فورم تبدیل ہو چکا ہے اور اب ان معاملات کی سماعت صرف وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔
30 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ
عدالتِ عظمیٰ نے اس معاملے پر 30 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ نیب کی تمام فوجداری اپیلیں اور زیرِ التوا درخواستیں وفاقی آئینی عدالت منتقل کی جائیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی مقدمے میں پہلے اختیارِ سماعت پر اعتراض نہ بھی اٹھایا گیا ہو، تب بھی قانون ہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ مقدمہ کس عدالت میں سنا جائے گا۔
فورم شاپنگ کی اجازت نہیں
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ایسا ممکن نہیں کہ ایک ہی مقدمے میں ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ جبکہ مرکزی اپیل وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائے۔
عدالت کے مطابق اگر مختلف فورمز پر ایک ہی نوعیت کے مقدمات چلائے گئے تو یہ قانون کے منافی ہوگا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسی درخواست گزار کی پسند یا رضامندی کی بنیاد پر نیا قانونی فورم تخلیق نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی فورم شاپنگ کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے مقدمات پر بھی اثر
یاد رہے کہ بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان نے بھی ہائی کورٹ سے ضمانت نہ ملنے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے اسے واپس کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد اب ان کی ضمانت کی درخواست وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائے گی۔
اسی طرح 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ کی ضمانت کی درخواست پر بھی رجسٹرار سپریم کورٹ نے اعتراض عائد کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سماعت کے دوران کیا دلائل دیے گئے؟
اس مقدمے کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی شامل تھے۔
درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے مؤقف اختیار کیا کہ ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ میں سنی جا سکتی ہے اور اس حوالے سے نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کے ایک فیصلے کا حوالہ بھی دیا۔
دوسری جانب اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب کی مرکزی اپیلیں اور ضمانت کے مقدمات وفاقی آئینی عدالت ہی سن سکتی ہے اور ایک ہی مقدمے کے مختلف حصے مختلف عدالتوں میں نہیں چل سکتے۔
نیب کے وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے مؤقف کی تائید کی، جس کے بعد عدالت نے 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو اب جاری کر دیا گیا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نیب مقدمات کی سماعت کے حوالے سے قانونی دائرۂ اختیار کو واضح کرتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد نہ صرف مستقبل کے نیب مقدمات بلکہ پہلے سے زیرِ التوا اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں بھی وفاقی آئینی عدالت میں منتقل ہوں گی، جس سے نیب قانون میں 2026 کی ترمیم پر عملی طور پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہوگی۔
آپ کے خیال میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے نیب مقدمات کی سماعت کا نظام مزید مؤثر ہوگا یا نئے قانونی چیلنجز سامنے آئیں گے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔