خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
یمن کے مغربی ساحلی شہر الحدیدہ میں سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ سعودی اتحادی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کے دوران حوثیوں سے منسلک فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ حوثیوں نے اس حملے کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی اتحاد کا مؤقف
سعودی اتحادی افواج کے مطابق الحدیدہ گورنریٹ میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں اور عسکری اہداف پر کارروائی کی گئی۔
اتحادی افواج نے واضح کیا کہ الحدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور تمام بندرگاہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بدستور کھلی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ نشانہ بنائے گئے اہداف کا تعلق بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات سے تھا اور کارروائی کا مقصد ان خطرات کا خاتمہ تھا۔
سعودی اتحاد نے مزید خبردار کیا کہ اگر حوثیوں کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو ان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
حوثیوں کا سخت ردعمل
دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا کہ سعودی جنگی طیاروں نے الحدیدہ اور کمران جزیرے پر فضائی حملے کیے۔
اسی دوران یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ الحدیدہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
“جواب جیسے کو تیسا ہوگا”
حوثیوں کی وزارتِ خارجہ نے ٹیلی کمیونیکیشن تنصیبات پر حملے کو سعودی عرب کی “سنگین غلطی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کا جواب جیسے کو تیسا دیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ یمن کا محاصرہ ختم کرنے کے جائز مطالبے کو تسلیم کرنے کے بجائے سعودی حکومت نے ایسی کارروائی کی ہے جس کی اسے بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔
حالیہ حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل حوثی تنظیم انصار اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن کے بارے میں حوثیوں کا مؤقف تھا کہ وہ ان کی اعلان کردہ بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
اس سے قبل حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا تھا اور آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، جس کے باعث عالمی جہاز رانی اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
خطے کی صورتحال مزید حساس
دفاعی اور علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر میں بڑھتے ہوئے حملے اور جوابی کارروائیوں کے اعلانات سے نہ صرف یمن کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تجارتی بحری راستوں اور توانائی کی ترسیل پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق الحدیدہ میں تازہ کارروائی اور اس پر حوثیوں کے سخت ردعمل نے بحیرہ احمر کی صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ ایک جانب سعودی اتحاد اپنی کارروائی کو تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب حوثی اسے جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اگر کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو اس کے اثرات نہ صرف یمن بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
آپ کے خیال میں بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کا عالمی تجارت اور خطے کے امن پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔