گرمی کے باوجود یورپ کے شہری اے سی کیوں نہیں لگواتے؟اہم وجوہات سامنے آگئیں

لاہور(خصوصی رپورٹ:دنیا کے بیشتر حصوں میں ایئرکنڈیشنر کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن یورپ میں صورتِ حال اب بھی مختلف ہے۔ اندازوں کے مطابق یورپ کی صرف 20 فیصد آبادی کو اے سی کی سہولت میسر ہے۔ اس محدود استعمال کے پیچھے قانونی پابندیوں، زیادہ اخراجات، رہائشی نظام اور سماجی رویّوں سمیت کئی عوامل کارفرما ہیں۔

سب سے بڑی رکاوٹ یورپ کے تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق سخت قوانین ہیں۔ فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک کے شہر قدیم اور تاریخی عمارتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان عمارتوں کی اصل ظاہری شکل برقرار رکھنے کے لیے بیرونی دیواروں پر اے سی یونٹ نصب کرنے کی اجازت اکثر نہیں دی جاتی، جس کے باعث شہری جدید کولنگ سسٹم لگوانے سے محروم رہتے ہیں۔

دوسری اہم وجہ کرائے کی رہائش اور تنصیب پر آنے والی لاگت ہے۔ جرمنی اور آسٹریا جیسے ممالک میں تقریباً نصف آبادی کرائے کے گھروں میں مقیم ہے۔ کسی دیوار میں سوراخ کرنے یا مستقل اے سی یونٹ نصب کرنے کے لیے کرایہ دار کو مالک مکان کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ بیشتر افراد ایسی عمارت پر بھاری رقم خرچ کرنا مناسب نہیں سمجھتے جو ان کی ذاتی ملکیت نہ ہو۔

بجلی کے بلند نرخ بھی اے سی کے محدود استعمال کا ایک بڑا سبب ہیں۔ شمالی امریکا کے مقابلے میں یورپ کے مختلف ممالک میں بجلی خاصی مہنگی ہے، اس لیے ایئرکنڈیشنر چلانے سے ماہانہ بل میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے یورپی شہری اسے بنیادی ضرورت کے بجائے ایک مہنگی سہولت یا آسائش سمجھتے ہیں۔

یورپ کا ثقافتی مزاج بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کئی شہری اے سی کو غیر ضروری اور توانائی کا ضیاع تصور کرتے ہیں اور گرمی سے بچنے کے روایتی طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ دن کے وقت بھاری شٹر یا پردے بند رکھنا اور رات کو کھڑکیاں کھول کر ٹھنڈی ہوا سے فائدہ اٹھانا اب بھی عام معمول ہے۔

چونکہ ماضی میں یورپی موسم نسبتاً معتدل رہا اور اے سی کو کبھی ناگزیر ضرورت نہیں سمجھا گیا، اس لیے اس شعبے میں تربیت یافتہ تکنیکی ماہرین اور انسٹالرز کی تعداد بھی محدود ہے۔ کسی ماہر کی خدمات حاصل کرنے پر ہزاروں یورو خرچ ہوسکتے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں اے سی لگوانے کے لیے کئی ماہ پہلے بکنگ کرانا پڑتی ہے۔ یہی قانونی، معاشی اور سماجی عوامل یورپ میں ایئرکنڈیشنر کے پھیلاؤ کی رفتار کو سست رکھے ہوئے ہیں۔