سابق وزیراعظم عمران خان کا تقریباً نو برس پرانا ایک انٹرویو ان دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دوبارہ توجہ حاصل کر رہا ہے، جس میں وہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور اسرائیل کے کردار پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
وائرل ہونے والی ویڈیو 2017 میں ایک پاکستانی صحافی کو دیے گئے انٹرویو کا حصہ ہے۔ گفتگو کے دوران عمران خان نے کہا تھا کہ اسرائیل کی پالیسی مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو بڑھانے اور انہیں باہمی تنازعات میں الجھائے رکھنے پر مبنی ہے۔
انہوں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا میں جاری بہت سے تنازعات اور کشیدگیوں کا جائزہ لیا جائے تو مختلف سطحوں پر اسرائیل کا کردار یا اثر دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی خواہش ہے کہ مسلمان ممالک اندرونی اختلافات کا شکار رہیں، جس کے نتیجے میں ان کی اجتماعی قوت کمزور پڑ جائے۔
انٹرویو کے دوران میزبان کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اگر اسرائیل مسلم ممالک کے درمیان فاصلے اور اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان کو اس کے برعکس کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے بقول پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دے اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے کوششیں کرے۔