سپریم کورٹ میں اہم پیش رفت، جسٹس منیب اختر قائم مقام چیف جسٹس پاکستان بن گئے

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ایک اہم آئینی پیش رفت کے تحت سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج Muneeb Akhtar نے قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

حلف برداری کی پروقار تقریب سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں منعقد ہوئی جہاں Muhammad Shafi Siddiqui نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔ تقریب میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے ججز سمیت اہم قانونی و عدالتی شخصیات نے شرکت کی۔

چیف جسٹس کی بیرون ملک مصروفیات

اعلامیے کے مطابق Yahya Afridi 24 سے 26 جون تک Saint Petersburg میں منعقد ہونے والے International Legal Forum میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

چیف جسٹس کی غیر موجودگی کے دوران جسٹس منیب اختر قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر عدالتی امور کی نگرانی کریں گے اور چیف جسٹس کی واپسی تک اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔

عدالتی نظام میں تسلسل کا عمل

قانونی ماہرین کے مطابق چیف جسٹس کی بیرون ملک مصروفیات یا رخصت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری عدالتی نظام میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ایک معمول کا آئینی طریقہ کار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سپریم کورٹ کے انتظامی اور عدالتی امور بغیر کسی تعطل کے جاری رہتے ہیں۔

عوامی و قانونی حلقوں کا ردعمل

قانونی برادری نے جسٹس منیب اختر کی بطور قائم مقام چیف جسٹس ذمہ داریاں سنبھالنے کو ایک اہم انتظامی قدم قرار دیا ہے۔ وکلا حلقوں کا کہنا ہے کہ جسٹس منیب اختر آئینی اور قانونی معاملات میں گہری مہارت رکھتے ہیں اور عدالتی نظام میں ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ تقرری عدالتی نظام کے تسلسل کا حصہ ہے، تاہم جسٹس منیب اختر کی بطور قائم مقام چیف جسٹس موجودگی بعض اہم مقدمات اور انتظامی فیصلوں کے تناظر میں بھی توجہ کا مرکز رہے گی۔

ان کے مطابق بین الاقوامی سطح پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی پاکستان کی نمائندگی بھی عدالتی سفارتکاری کے فروغ اور عالمی قانونی فورمز پر پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔