لاہور : پنجاب کے وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) نے 24 گھنٹوں کے دوران صرف تین متوفی آرگن ڈونرز کے اعضاء سے 10 کامیاب لیور ٹرانسپلانٹس مکمل کر کے دنیا بھر میں ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔ ان کے مطابق یہ کارنامہ نہ صرف ایک تاریخی عالمی ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ پاکستانی ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کی غیر معمولی صلاحیتوں، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کا واضح ثبوت بھی ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار پی کے ایل آئی میں منعقدہ ڈیسیز آرگن ڈونیشن سیمینار اور ادارے کی تاریخی کامیابی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آج کی تقریب دو اہم پہلوؤں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایک جانب پی کے ایل آئی کی وہ غیر معمولی کامیابی ہے جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا، جبکہ دوسری جانب متوفی افراد کے اعضاء عطیہ کرنے کے رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ دونوں موضوعات الگ دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں کیونکہ آرگن ڈونرز کے اہل خانہ کے ایثار اور جذبۂ خدمت ہی نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پی کے ایل آئی کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز پروفیسر سعید اختر، ڈین پروفیسر فیصل سعود ڈار، ٹرانسپلانٹ سرجنز، ہیپاٹولوجسٹس، اینستھیٹسٹس، نرسنگ اسٹاف، کوآرڈینیٹرز، ٹیکنیکل ماہرین، انتظامی عملے اور پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی انتھک محنت اور مہارت کے باعث ادارہ صرف تین ڈونرز کے اعضاء سے ایک نوجوان اور نو بچوں سمیت دس مریضوں کو نئی زندگی دینے میں کامیاب ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کی اصل اہمیت کسی عالمی ریکارڈ سے بڑھ کر ان دس خاندانوں کی خوشی اور اطمینان میں پوشیدہ ہے جو اپنے پیاروں کے علاج کے حوالے سے شدید مایوسی کا شکار تھے۔ وزیر خزانہ نے ان خاندانوں کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنے مرحوم عزیزوں کے اعضاء عطیہ کر کے نہ صرف دس قیمتی جانوں کو بچایا بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایثار اور انسان دوستی کی روشن مثال قائم کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی مرحوم کے اعضاء عطیہ کرنا ایک عظیم انسانی، اخلاقی اور فلاحی عمل ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ایک شخص دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی کئی افراد کی زندگیاں بچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشرے میں آرگن ڈونیشن کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے اور غلط تصورات کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس نیک مقصد میں حصہ لے سکیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صحت کے شعبے کی بہتری کو اولین ترجیح دے رہی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ صوبے کے ہر شہری کو اپنے ہی ضلع میں بین الاقوامی معیار کی طبی سہولتیں میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیر خزانہ وہ صحت کے شعبے پر ہونے والے اخراجات کو سب سے مؤثر سرمایہ کاری تصور کرتے ہیں کیونکہ صحت مند افراد ہی ایک مضبوط معیشت اور خوشحال معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران صحت کے شعبے کے لیے 631 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 181 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھے گئے تھے۔ اس رقم کا بڑا حصہ ضلعی اور تحصیل سطح پر طبی سہولتوں کے فروغ پر خرچ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق لاہور میں جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور سرگودھا میں نواز شریف انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سمیت متعدد بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ بنیادی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن، ڈائیلاسز اور ٹرانسپلانٹ سہولتوں کی فراہمی، بچوں کے دل کے آپریشنز اور کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ حکومت پنجاب اب تک پی کے ایل آئی کے قیام، ترقی اور انتظامی امور کے لیے تقریباً 69 ارب 23 کروڑ 70 لاکھ روپے فراہم کر چکی ہے، جن میں 43 ارب روپے آپریشنل اخراجات کی مد میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ پروگرام کے تحت 400 سے زائد مریضوں کے ٹرانسپلانٹس پر ایک ارب 42 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں تاکہ کسی بھی ضرورت مند مریض کی زندگی مالی مشکلات کے باعث خطرے میں نہ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ پی کے ایل آئی اب محض ایک اسپتال نہیں رہا بلکہ جدید طبی تحقیق، تربیت، جدت اور اعلیٰ معیار کی علاج گاہ کے طور پر قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ ادارے کے قیام سے اب تک 7 لاکھ 41 ہزار سے زائد مریض آؤٹ ڈور خدمات جبکہ تقریباً 48 ہزار مریض ان ڈور سہولتوں سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق پی کے ایل آئی میں اب تک 1175 لیور ٹرانسپلانٹس، 1276 کڈنی ٹرانسپلانٹس، 19 بون میرو ٹرانسپلانٹس اور 580 سے زیادہ روبوٹک سرجریز مکمل کی جا چکی ہیں، جو ادارے کی عالمی معیار کی طبی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس تاریخی کامیابی پر پی کے ایل آئی کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ صوبے میں عالمی معیار کے طبی اداروں کی سرپرستی اور معاونت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ پاکستانی ڈاکٹر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر میں نمایاں مقام حاصل کریں اور دیگر ممالک کے طبی ماہرین بھی پاکستان آ کر یہاں کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کریں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر خزانہ نے پروفیسر سعید اختر، پروفیسر فیصل سعود ڈار، ٹرانسپلانٹ ٹیم، نرسنگ اسٹاف، انتظامیہ، آرگن ڈونرز کے اہل خانہ اور اس کامیابی میں کردار ادا کرنے والے تمام افراد کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی کامیابی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جب ایثار، علم، مہارت اور حکومتی عزم یکجا ہو جائیں تو بڑے سے بڑا ہدف بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ آرگن ڈونیشن کے شعور کو عام کریں تاکہ مزید انسانی جانیں بچائی جا سکیں اور انسانیت کی خدمت کا یہ سفر مزید وسعت اختیار کر سکے۔