موجودہ دور میں پانی کی بوتلوں کا استعمال ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اسکولوں، دفاتر، جم، یا گھریلو سرگرمیوں میں ہر جگہ لوگ پانی کی بوتلیں ساتھ رکھتے ہیں۔ بظاہر یہ بوتلیں صاف اور محفوظ دکھائی دیتی ہیں، لیکن ماہرینِ صحت کے مطابق یہ اکثر جراثیموں کا گڑھ بن جاتی ہیں، خصوصاً جب انہیں روزانہ استعمال کے باوجود باقاعدگی سے صاف نہیں کیا جاتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی پیتے وقت ہمارے منہ کے بیکٹیریا بوتل کے منہ پر منتقل ہو جاتے ہیں، جب کہ ڈھکن یا بوتل کو چھونے سے ہاتھوں کے جراثیم بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بوتل کا وہ حصہ جہاں سے پانی نکلتا ہے، جراثیموں کی افزائش کا مرکز بن جاتا ہے۔
امریکا کی Pittsburgh یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی طبی ماہر مچل کنیپر کے مطابق، “پانی کی بوتلوں کو صاف رکھنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ان میں موجود نمی بیکٹیریا کے لیے ایک مثالی ماحول فراہم کرتی ہے۔” اگر صفائی کا خیال نہ رکھا جائے تو پیٹ کی خرابی، گلے میں خراش، بخار، الرجی اور حتیٰ کہ دمے جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اسی طرح Cleveland Clinic کی ماہر Marianne Sumego کہتی ہیں کہ لوگوں کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بار بار استعمال ہونے والی بوتلیں محفوظ ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ بیماریوں کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
کلیولینڈ کلینک کی ایک رپورٹ کے مطابق، پانی کی بوتلوں میں موجود بیکٹیریا کی مقدار اکثر کچن کے سنک یا بیت الخلا کی سطح پر موجود بیکٹیریا سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ صرف پانی سے بوتل کو کھنگال لینا کافی نہیں، بلکہ اسے صابن اور نیم گرم پانی سے اچھی طرح رگڑ کر دھونا ضروری ہے۔
مارچ 2023 میں ہونے والی ایک امریکی تحقیق نے یہ انکشاف کیا کہ عام طور پر استعمال ہونے والی پانی کی بوتلوں میں ٹوائلٹ سے 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود ہوتے ہیں۔
تحقیق میں مختلف اقسام کی چار بوتلوں کا تجزیہ کیا گیا، جن میں اوسطاً دو کروڑ سے زائد جراثیم پائے گئے، جب کہ ایک ٹوائلٹ میں بیکٹیریا کی اوسط تعداد صرف 515 تھی۔
ماہرین کے مطابق، یہ بوتلیں لیبارٹری کی پیٹری ڈِش کی طرح بن جاتی ہیں، جہاں جراثیم آسانی سے افزائش پاتے ہیں۔
حالیہ رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کو بار بار فوڈ پوائزننگ یا فلو جیسی علامات لاحق ہوتی ہیں، اور وجہ سمجھ نہیں آ رہی، تو ممکن ہے کہ اس کی وجہ پانی کی بوتل میں موجود جراثیم ہوں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ پانی کے لیے اسٹیل یا شیشے (گلاس) سے بنی بوتلیں استعمال کی جائیں کیونکہ ان کی سطح پر جراثیم زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے۔
اس کے برعکس پلاسٹک کی بوتلیں نہ صرف بیکٹیریا کو زیادہ عرصے تک محفوظ رکھتی ہیں بلکہ ان سے پلاسٹک کے ننھے ذرات (microplastics) بھی پانی میں شامل ہو جاتے ہیں، جو طویل المدتی طور پر صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
لہٰذا اگر آپ اپنی صحت کا خیال رکھتے ہیں تو پانی کی بوتل کو معمولی شے نہ سمجھیں۔ اسے روزانہ صابن سے دھوئیں، ڈھکن کو اچھی طرح صاف کریں اور وقتاً فوقتاً بوتل کو تبدیل کرتے رہیں۔ صاف پانی پینا جتنا ضروری ہے، صاف بوتل کا استعمال اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔