بچپن کی بے خوابی، جوانی کا ڈپریشن؟ نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

ایک نئی سائنسی تحقیق نے والدین کیلئے اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بچپن میں مسلسل کم یا خراب نیند لینے والے بچوں میں نوعمری کے دوران ڈپریشن اور ذہنی مسائل کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق نیند صرف جسمانی آرام کا ذریعہ نہیں بلکہ دماغی نشوونما، جذباتی توازن اور ذہنی صحت کی بنیاد بھی ہے۔

تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

برطانیہ کی University of Birmingham کے محققین نے 15 ہزار سے زائد بچوں کے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا۔

یہ بچے مشہور تحقیقی منصوبے Children of the Nineties کا حصہ تھے، جس میں بچوں کی پیدائش سے لے کر جوانی تک صحت اور طرزِ زندگی کا مسلسل مشاہدہ کیا جاتا رہا۔

تحقیق کے دوران بچوں کی نیند کے دورانیے اور معیار کو مختلف عمروں میں ریکارڈ کیا گیا، جن میں 6 ماہ، 18 ماہ، 30 ماہ اور بعد کی کئی عمریں شامل تھیں۔

ڈپریشن کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے؟

ماہرین کے مطابق ناکافی نیند دماغ کے ان حصوں کو متاثر کرتی ہے جو جذبات، توجہ، یادداشت اور ذہنی دباؤ کو کنٹرول کرتے ہیں۔

بچپن میں مسلسل نیند کی کمی دماغی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، جس کے نتائج کئی سال بعد نوعمری میں ڈپریشن، بے چینی اور دیگر نفسیاتی مسائل کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔

والدین کیلئے اہم پیغام

محققین نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی سونے جاگنے کی عادات پر خصوصی توجہ دیں۔

ماہرین کے مطابق:

  • بچوں کیلئے باقاعدہ سونے کا وقت مقرر کیا جائے۔
  • سونے سے پہلے موبائل، ٹیبلٹ اور ٹی وی کا استعمال محدود کیا جائے۔
  • پرسکون اور آرام دہ ماحول فراہم کیا جائے۔
  • رات دیر تک جاگنے کی عادت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

نیند کیوں اہم ہے؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کے دوران دماغ دن بھر کی معلومات کو ترتیب دیتا اور جذباتی دباؤ کو کم کرتا ہے۔

اسی وجہ سے مناسب نیند بچوں کی تعلیمی کارکردگی، یادداشت، توجہ اور جذباتی استحکام کیلئے انتہائی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

عوامی ردعمل

تحقیق سامنے آنے کے بعد والدین اور ماہرینِ تعلیم میں بھی اس موضوع پر دلچسپی بڑھ گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اعتراف کیا کہ جدید دور میں بچوں کا اسکرین ٹائم بڑھنے سے نیند کے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں۔

ماہرین کی رائے

نفسیاتی ماہرین کے مطابق ڈپریشن کے تمام اسباب کو ختم کرنا ممکن نہیں، لیکن نیند ایسا عنصر ہے جسے بہتر بنا کر خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق ابتدائی عمر میں اچھی نیند مستقبل کی ذہنی صحت میں ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ تحقیق والدین کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ بچوں کی نیند کو معمولی مسئلہ سمجھنے کے بجائے سنجیدگی سے لیا جائے۔

ان کے مطابق آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں بچے اسکرینوں کے سامنے زیادہ وقت گزارتے ہیں، وہاں صحت مند نیند کے معمولات مستقبل میں ذہنی بیماریوں سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔