اردن میں امریکی اڈہ نشانے پر، ایران کا 12 میزائلوں سے حملہ

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں واقع اہم امریکی فوجی تنصیب الازرق ایئر بیس پر 12 بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملے ایران پر ہونے والی حالیہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے، جبکہ دعویٰ کیا گیا کہ حملوں میں امریکی اور اتحادی افواج کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

الازرق ایئر بیس کیوں اہم ہے؟

الازرق ایئر بیس اردن کے صوبہ زرقا میں واقع ہے اور دارالحکومت عمان سے تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع ایک اہم فضائی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

یہ اڈہ اردنی فضائیہ کے مختلف فائٹر اسکواڈرنز کی میزبانی کرتا ہے جبکہ امریکا اور نیٹو اتحادی بھی ماضی میں اسے علاقائی فوجی آپریشنز کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں۔

ایران کا دعویٰ کیا ہے؟

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملوں میں امریکی جنگی طیاروں کے ہینگرز، کمانڈ مراکز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لڑاکا طیارے اور عسکری سازوسامان تباہ ہوا۔

آزادانہ تصدیق نہیں

تاہم ایرانی دعوؤں کی کسی آزاد یا بین الاقوامی ذریعے سے تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔

امریکی یا اردنی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر کسی بڑے نقصان کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

خطے میں خطرے کی گھنٹی

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ایسے حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو پورا مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع تر فوجی تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔

خصوصاً اردن، بحرین، قطر اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات ممکنہ خطرات کی زد میں رہ سکتی ہیں۔

عالمی اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی عالمی تیل منڈی، فضائی ٹریفک اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز اور خطے کے دیگر اہم تجارتی راستے پہلے ہی عالمی تشویش کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر ایرانی دعووں اور امریکی ردعمل کے حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔ کچھ حلقے صورتحال کو نئی جنگ کی ابتدا قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق اگرچہ ایرانی دعوؤں کی مکمل تصدیق ابھی باقی ہے، تاہم اردن جیسے ملک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے اس تنازع کے دائرہ کار میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ان کے مطابق موجودہ حالات میں کسی بھی فریق کی غلط حکمت عملی یا اشتعال انگیز قدم پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتا ہے۔