خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
ایک نئی سائنسی تحقیق نے خواتین اور مردوں کی نیند کے حوالے سے ایک دلچسپ حقیقت سامنے لاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ خواتین اکثر بہتر اور زیادہ معیاری نیند لینے کے باوجود خود کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ تھکا ہوا محسوس کرتی ہیں۔
طبی جریدے Sleep Advances میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق خواتین کی نیند حقیقت میں مردوں کے مقابلے میں بہتر ہو سکتی ہے، لیکن وہ اپنی نیند کے معیار کے بارے میں زیادہ تنقیدی رائے رکھتی ہیں۔
تحقیق کیسے کی گئی؟
مطالعے میں تقریباً 500 افراد کو شامل کیا گیا جن کی نیند کے دوران دماغی سرگرمی، سانس لینے کے عمل اور جسمانی حرکات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
بعد ازاں شرکاء سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی رات کی نیند کو کس معیار کی سمجھتے ہیں۔
نتائج حیران کن تھے۔
محققین نے پایا کہ خواتین متعدد معاملات میں مردوں سے بہتر نیند لے رہی تھیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی نیند کو کم معیاری اور ناکافی قرار دے رہی تھیں۔
اصل وجہ کیا ہے؟
سویڈن کے معروف ادارے Karolinska Institute سے تعلق رکھنے والے پروفیسر Torbjorn Akerstedt کے مطابق خواتین رات کے دوران ہونے والی مختصر بیداریوں کو زیادہ محسوس اور یاد رکھتی ہیں۔
اس کے برعکس مرد اکثر رات میں چند لمحوں کے لیے جاگنے کے باوجود اسے یاد نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے پرسکون اور مکمل نیند لی ہے۔
خواتین کی یادداشت زیادہ متحرک؟
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ خواتین رات کے دوران جاگنے کے لمحات کا اندازہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ درست لگاتی ہیں۔
جبکہ مرد اپنی بیداری کے دورانیے کو کم سمجھتے ہیں اور نتیجتاً اپنی نیند کے بارے میں زیادہ مطمئن رہتے ہیں۔
عمر بڑھنے کے ساتھ فرق بڑھ جاتا ہے
ماہرین کے مطابق جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے مردوں اور خواتین کے نیند سے متعلق تجربات میں فرق مزید واضح ہونے لگتا ہے۔
خاص طور پر درمیانی عمر اور اس کے بعد خواتین اپنی نیند کے معیار کے بارے میں زیادہ حساس ہو جاتی ہیں۔
ماہرین کی رائے
نیند کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی نیند صرف گھنٹوں کی تعداد کا نام نہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ انسان رات کے دوران نیند کو کس طرح محسوس کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق دماغ رات میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کو مختلف انداز میں ریکارڈ کرتا ہے اور یہی فرق نیند کے تجربے کو متاثر کرتا ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر تحقیق کے نتائج سامنے آنے کے بعد کئی خواتین نے تبصرہ کیا کہ وہ اکثر پوری رات سونے کے باوجود صبح تھکاوٹ محسوس کرتی ہیں۔
بعض صارفین نے اسے اپنی روزمرہ زندگی کے تجربات سے مطابقت رکھنے والا انکشاف قرار دیا۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ نیند صرف جسمانی عمل نہیں بلکہ نفسیاتی اور دماغی عوامل سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔
ان کے مطابق خواتین کا زیادہ حساس اندازِ ادراک اور رات کی مختصر بیداریوں کو یاد رکھنا اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ بہتر نیند لینے کے باوجود خود کو زیادہ تھکا ہوا کیوں محسوس کرتی ہیں۔