فیلڈ مارشل کی قیادت نہ ہوتی تو اتنی بڑی پیش رفت ممکن نہ تھی: امریکی نائب صدر

لاہور:امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے خطے میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے اور ہمیں پاکستان سے محبت ہے۔
برگن سٹاک ریزارٹ میں ایران اور امریکا کے تکنیکی مذاکرات سے قبل ہونے والی اہم سفارتی سرگرمیوں کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی۔ اسی موقع پر ایرانی سپیکر باقر قلیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی اعلیٰ سطح ملاقاتیں ہوئیں۔
یہ سارا ماحول پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات سے پہلے ایک بڑے سفارتی مرکز کی شکل اختیار کر گیا تھا، جہاں مختلف فریقین کے درمیان اہم رابطے اور ملاقاتیں جاری رہیں۔
ملاقات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا وزیراعظم شہباز شریف سے پرتپاک انداز میں خیر مقدم کیا گیا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر وزیراعظم سے مصافحہ کیا اور گرمجوشی کا اظہار کیا۔
بعد ازاں جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی اور ان سے گلے بھی ملے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں اور ہمیں پاکستان سے محبت ہے۔
انہوں نے خصوصی طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے کہا کہ آپ نے جو کردار ادا کیا اس کے لیے ہم آپ کے مشکور ہیں۔ ان کے بقول فیلڈ مارشل ایک عظیم عسکری رہنما ہیں اور اگر ان کی قیادت نہ ہوتی تو موجودہ پیش رفت ممکن نہ ہوتی۔
مذاکرات کے آغاز سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں اس تنازع کے سفارتی حل کے لیے مکمل اختیار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت تمام امور کے حل کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر بہترین قیادت اور سفارتی مہارت کا مظاہرہ کیا، جس پر انہیں سراہا جاتا ہے۔
جے ڈی وینس نے گفتگو کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر مزاحیہ انداز میں کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی میں بھارت اور پاکستان سے دو اہم ترین افراد ہیں، بھارت سے ان کی اہلیہ جبکہ پاکستان سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ان کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اتنی زیادہ رابطہ کاری رہی ہے جتنی شاید کسی اور شخصیت سے نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اگر فیلڈ مارشل کی حکمت عملی موجود نہ ہوتی تو ممکن ہے کہ آج یہ پیش رفت حاصل نہ ہو پاتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نہ صرف ایک عظیم عسکری رہنما ہیں بلکہ انہوں نے خود کو ایک مؤثر اور باصلاحیت سفارت کار کے طور پر بھی منوایا ہے۔ جے ڈی وینس کے مطابق دنیا کے عوام، خصوصاً امریکا کے شہریوں کو بھی اس کردار کو سراہنا چاہیے۔
امریکی نائب صدر نے اس موقع پر قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن کا بھی ذکر کیا اور انہیں امریکا کا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں ان کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی سپیکر باقر قلیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ بھی موجود تھے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان اور قطر کو ثالثی کا مرکزی کردار حاصل ہے، جبکہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔ سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اسے خطے میں ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تسلسل میں آج اکیس جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں تکنیکی سطح کے مذاکرات منعقد کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور طارق فاطمی بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ پاکستانی وفد اس مذاکراتی عمل میں میزبان اور ثالث کے طور پر شریک ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے پہلے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے سلسلے میں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں اکیس جون کو برگن اسٹاک میں منعقد ہوں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ پاکستان اس پورے عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا تاکہ طے شدہ مفاہمتوں کو عملی شکل دی جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت پارلیمان کے سپیکر باقر قلیباف کر رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کے بین الاقوامی امور کے نائب علی باقری بھی شامل ہیں۔
ایرانی وفد میں نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی، وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی، نائب وزیر تیل حمید بورڈ سمیت اعلیٰ اقتصادی اور سکیورٹی حکام بھی شریک ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف بھی جنیوا کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔