اسرائیل عالمی عدالت کے ممکنہ وارنٹِ گرفتاری پر بھڑک اٹھا، اسے “اعلانِ جنگ” قرار دے دیا

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

Israel کے وزیر خزانہ Bezalel Smotrich نے انکشاف کیا ہے کہ International Criminal Court (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر نے ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کی درخواست دائر کر دی ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق انتہاپسند یہودی رہنما Bezalel Smotrich نے ممکنہ وارنٹِ گرفتاری کو اسرائیل کے خلاف “اعلانِ جنگ” قرار دیتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں ایک فلسطینی گاؤں کو مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔

آئی سی سی میں کن الزامات پر کارروائی؟

اطلاعات کے مطابق International Criminal Court میں اسرائیلی وزیر خزانہ کے خلاف مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع اور فلسطینی آبادی کی بے دخلی میں مبینہ کردار پر کارروائی کی درخواست دی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق Bezalel Smotrich پر جنگی جرائم اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں، تاہم عدالت نے ابھی تک باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔

“یہ اسرائیل کے خلاف جنگ ہے”

Jerusalem میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ کے خلاف عالمی عدالت کے وارنٹ جاری کرنا اسرائیل کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔

انہوں نے International Criminal Court کو “متعصب ادارہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے تاریخی، مذہبی اور قانونی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

اسرائیلی وزیر خزانہ نے فلسطینی اتھارٹی پر الزام لگایا کہ وہ عالمی عدالت کو اسرائیلی قیادت کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

فلسطینی بستیوں کے انہدام پر تنازع

رپورٹس کے مطابق جس فلسطینی بستی کو مسمار کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ برسوں سے اسرائیل اور عالمی برادری کے درمیان تنازع کا مرکز رہی ہے۔

Supreme Court of Israel نے 2018 میں اس بستی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہدام کی اجازت دی تھی، تاہم عالمی ردعمل کے خوف سے اسرائیلی حکومت اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد نہیں کر سکی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اس اقدام کو “جبری بے دخلی” قرار دے رہی ہیں۔

103 نئی یہودی بستیاں بنانے کا دعویٰ

اپنی پریس کانفرنس میں Bezalel Smotrich نے مغربی کنارے میں 103 نئی یہودی بستیوں کے قیام یا قانونی حیثیت دینے کو اپنی حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے دور میں 160 زرعی آؤٹ پوسٹس قائم کی گئی ہیں جن کے ذریعے تقریباً 2 لاکھ 47 ہزار ایکڑ اراضی پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔

انسانی حقوق تنظیموں کا مؤقف

اسرائیلی انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد آبادکاروں کے تشدد کے باعث مغربی کنارے کے مختلف علاقوں سے 59 فلسطینی کمیونٹیز بے دخل ہو چکی ہیں جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہزار سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق فلسطینی آبادی کی جبری منتقلی Fourth Geneva Convention کے تحت جنگی جرم شمار ہو سکتی ہے۔

اسرائیل اور آئی سی سی کا تنازع

یاد رہے کہ نومبر 2024 میں International Criminal Court نے اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu اور سابق وزیر دفاع Yoav Gallant کے خلاف بھی گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے۔

Israel آئی سی سی کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کا مؤقف ہے کہ چونکہ اسرائیل روم اسٹیچو کا رکن نہیں، اس لیے عالمی فوجداری عدالت کو اسرائیلی شہریوں پر اختیار حاصل نہیں۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اسرائیل اور عالمی عدالت کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے جبکہ فلسطین تنازع ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکزی موضوع بنتا جا رہا ہے۔