واشنگٹن: ایران سے متعلق پالیسی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اس وقت سیاسی دھچکا لگا جب امریکی سینیٹ نے ایران کے گرد قائم پابندیوں اور فوجی دباؤ کو محدود کرنے کے حق میں ایک اہم قرارداد منظور کرلی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خطے میں تعینات امریکی فوجی دستوں کی واپسی اور ایران کے خلاف جاری کارروائیوں پر کانگریس کی منظوری لازم قرار دی جائے۔
ایران تنازع کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی سینیٹ نے ایسا اقدام منظور کیا ہے جو مستقبل میں ایران پر کسی بھی نئی امریکی عسکری کارروائی کو کانگریس کی اجازت سے مشروط کرسکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ ڈالے گئے۔ اس موقع پر چار ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی جماعتی پالیسی سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔ ان میں سوسان کولنز، لیسا مرکووسکی، رینڈ پال اور بل کیسیڈی شامل ہیں۔
قرارداد کے متن کے مطابق ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو جاری رکھنے یا اس میں توسیع کے لیے کانگریس سے باضابطہ منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
اب یہ معاملہ سینیٹ میں مزید بحث اور حتمی رائے شماری کے مرحلے میں داخل ہوگا، جہاں ریپبلکن قیادت کی جانب سے قرارداد کو روکنے کی کوشش کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر جون فیٹرمین اپنی جماعت کے واحد رکن تھے جنہوں نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔ دوسری جانب ریپبلکن سینیٹر بل کیسیڈی کی حمایت نے سیاسی مبصرین کو حیران کردیا، کیونکہ حال ہی میں وہ اپنی جماعت کے پرائمری انتخاب میں شکست کھوچکے ہیں اور صدر ٹرمپ نے ان کے مخالف امیدوار کی حمایت کی تھی۔