موٹر سائیکل سواروں کیلئے سستا پیٹرول، ماہانہ 20 لیٹر کوٹہ دینے کی تجویز

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے کم آمدنی والے شہریوں کو پیٹرول پر سبسڈی فراہم کرنے کے لیے ایک جدید ایپ تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے تیار کی گئی یہ ایپ فی الحال ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہے اور جلد ہی عوام کے سامنے پیش کر دی جائے گی۔

اس سبسڈی کا اطلاق ٹو اور تھری ویلر گاڑیوں پر کیا جائے گا، جبکہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ دیگر صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ موٹر سائیکلز کے لیے ماہانہ ۲۰ لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ تاہم ۸۰۰ سی سی گاڑیاں رکھنے والے صارفین کے لیے سبسڈی کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہو سکا۔

اس حوالے سے ملک بھر کے ۱۲ ہزار پیٹرول پمپس پر سبسڈی والے نوزلز مختص کیے جائیں گے۔ ہر پیٹرول پمپ پر دو موبائل فونز بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ ایپ کے ذریعے سبسڈی والا پیٹرول دیا جا سکے۔

حکومت کا مقصد کم آمدنی والے شہریوں، خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف فراہم کرنا ہے جبکہ بڑی گاڑیوں والے صارفین کو مارکیٹ ریٹ پر پیٹرول خریدنا پڑے گا۔

صحافی غلام مرتضیٰ کا تجزیہ، یہ تجویز حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کی ایک اہم کوشش ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو روزمرہ نقل و حرکت کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں۔ ماہانہ ۲۰ لیٹر کا کوٹہ ایک معقول مقدار ہے جو کم آمدنی والے افراد کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔

تاہم ۸۰۰ سی سی گاڑیوں والوں کے لیے سبسڈی کا فیصلہ نہ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت بڑی گاڑیوں والوں کو مارکیٹ ریٹ پر ہی پیٹرول خریدنے کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ ایپ کی ٹیسٹنگ اور ۱۲ ہزار پمپس پر نوزلز اور موبائل فونز کی فراہمی ایک بڑا انتظامی چیلنج ہوگا۔ اگر یہ نظام شفاف اور موثر ثابت ہوا تو یہ کم آمدنی والوں کے لیے بڑی ریلیف ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ کو یہ سبسڈی تجویز کیسی لگی؟ کیا ماہانہ ۲۰ لیٹر پیٹرول موٹر سائیکل صارفین کے لیے کافی ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!