ٹرمپ کا ایرانی تیل پر کنٹرول کا بیان، جنگ خطرناک رخ اختیار کر گئی

واشنگٹن/تہران (انٹرنیشنل ڈیسک – غلام مرتضیٰ) امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں ایک اور ڈرامائی موڑ آ گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا ہے، حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے بظاہر مذاکرات کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ اس متضاد صورتحال نے خطے میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

خلیجی ریاست کویت نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملے میں ایک پاور اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی کارکن ہلاک ہو گیا۔ اس کے علاوہ مختلف خلیجی ممالک نے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے شہر تبریز میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اس کے جواب میں ایرانی افواج نے جنوبی اسرائیل کے ایک صنعتی علاقے کو نشانہ بنایا، جہاں آگ لگنے اور کیمیائی اخراج کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر اسرائیل نے یمن سے داغے گئے دو ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ اقوام متحدہ نے جنوبی لبنان میں ایک امن اہلکار کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔

اسی دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں تمام ممالک نے جنگ میں کمی لانے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ایرانی تیل پر کنٹرول کا بیان صرف ایک بیان نہیں بلکہ جنگ کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔

صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق  ٹرمپ کا بیان اور ایران کی جوابی کارروائیاں واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ جنگ اب صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ ایرانی تیل پر کنٹرول کا مطالبہ عالمی معیشت کے لیے خطرناک ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا تیل دنیا کی بڑی معیشتوں کی ضرورت ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ایک مثبت قدم ہے، مگر اگر فوری طور پر سفارتی کوششیں نہ کی گئیں تو یہ تنازع عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے۔ عالمی برادری کو اب خاموش تماشائی بننے کی بجائے فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مزید تباہی سے بچا جا سکے۔

آپ کو ٹرمپ کا یہ بیان اور جاری جنگ کی صورتحال کیسی لگ رہی ہے؟ کیا یہ تنازع عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!