رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
Supreme Court of Pakistan نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ “ایک بے گناہ کو سزا دینے کے بجائے 10 گنہگاروں کو بری کردینا زیادہ بہتر ہے۔” عدالت عظمیٰ نے 20 سال پرانے قتل کیس میں ٹرائل کورٹ اور Sindh High Court کی جانب سے سنائی گئی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم محمد اقبال کی فوری رہائی کا حکم دے دیا۔
عدالت کی جانب سے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا، جو Justice Ishtiaq Ibrahim نے تحریر کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ اپنے الزامات کو شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا، جبکہ مقدمے میں متعدد قانونی اور شواہد سے متعلق خامیاں پائی گئیں۔
مقدمے کی تفصیلات
یہ مقدمہ 29 اپریل 2006 کو Baldia Town میں درج کیا گیا تھا، جس میں محمد اقبال پر دو افراد کے قتل کا الزام عائد کیا گیا۔ بعد ازاں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شکایت کنندہ خود عینی شاہد نہیں تھا جبکہ گواہان کے بیانات میں بھی واضح تضاد موجود تھا۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جائے وقوعہ اور پولیس اسٹیشن کے درمیان صرف دو سے تین کلومیٹر کا فاصلہ ہونے کے باوجود ایف آئی آر فوری طور پر کیوں درج نہیں کروائی گئی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ زخمی گواہ نے خود ایف آئی آر کیوں درج نہیں کروائی، اس بارے میں بھی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔ اسی طرح جائے وقوعہ سے ملنے والے پانچ خالی خول فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری نہیں بھیجے گئے، جس سے استغاثہ کے مؤقف پر مزید شکوک پیدا ہوئے۔
“شک کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے”
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ فوجداری قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر کسی بھی شواہد یا واقعے سے شک پیدا ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ 14 سو سال سے یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے سے بہتر ہے کہ 10 گنہگار بری ہو جائیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کا یہ مؤقف کہ وقوعے کے 14 سال بعد ملزم کی گرفتاری اس کے قصوروار ہونے کا ثبوت ہے، قانونی طور پر درست نہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ملزم کے بیانِ 342 میں مبینہ مفروری سے متعلق سوال ہی نہیں پوچھا گیا، اس لیے اس نکتے کو اس کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص گرفتاری یا پولیس ہراسانی کے خوف سے روپوش رہے تو صرف اسی بنیاد پر اسے مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
قانونی ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ پاکستان کے فوجداری نظام انصاف میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت نے ایک بار پھر اس اصول کو دہرایا ہے کہ سزا صرف مضبوط، واضح اور ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر ہی دی جا سکتی ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ فیصلہ تفتیشی نظام، فرانزک شواہد اور استغاثہ کی ذمہ داریوں پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ ناقص تحقیقات نہ صرف انصاف کے تقاضے متاثر کرتی ہیں بلکہ بے گناہ افراد کی زندگیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کئی صارفین نے عدالت کے فیصلے کو انصاف کی بالادستی قرار دیا، جبکہ بعض حلقوں نے تفتیشی نظام کی خامیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر شواہد کمزور ہوں تو کسی بھی شخص کو سزا دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
عدالت نے آخر میں حکم دیا کہ اگر محمد اقبال کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔
- پاکستان دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا، ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات آج اسلام آباد میں شروع
- سونے کے خریداروں کیلئے خوشخبری! قیمتوں میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری
- پاکستان رواں سال کئی دہائیوں بعد سخت ترین سردی کا سامنا کرے گا، ماہرین
- تکنیکی غلطی، سینیٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی کل دوبارہ منظوری لی جائے گی