اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری مقدمے کے سلسلے میں بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق دائر متفرق درخواست پر سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ کو پہلے متعلقہ فریقین کو فراہم کیا جانا چاہیے تھا۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے مزید بتایا کہ رپورٹ کے ساتھ پمز اسپتال کی پریس ریلیز بھی منسلک ہیں جو پہلے ہی اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں۔
عدالت نے سوال کیا کہ کیا ابتدائی علاج جیل کے اسپتال میں کیا گیا تھا اور بعد میں مریض کو پمز منتقل کیا گیا؟ اس پر بتایا گیا کہ جیل اسپتال میں پمز کے ڈاکٹر نے طبی معائنہ کیا تھا اور ڈاکٹر کی تجویز پر انجکشن اسپتال میں لگایا جا سکتا تھا، اسی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کو دو مرتبہ پمز لے جایا گیا۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ متفرق درخواست کے ساتھ فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی وہ رپورٹ بھی شامل ہے جو انہوں نے سپریم کورٹ میں بطور فرینڈ آف کورٹ جمع کروائی تھی۔
اسی موقع پر بیرسٹر اعتزاز احسن بھی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں وکالت نامے کی تصدیق کروانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ عدالت پہلے اپیل پر سماعت کرے یا میڈیکل بنیادوں پر دائر درخواست کو سنے؟
اس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ بیرسٹر اعتزاز احسن کا وکالت نامہ دستخط کروا کر عدالت میں جمع کروایا جائے۔
دلائل دیتے ہوئے سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ سزا سنائے جانے کے بعد بانی پی ٹی آئی کو اٹک جیل منتقل کیا گیا جہاں انہیں غیر معمولی حالات میں رکھا گیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سنہ 2023 میں بانی پی ٹی آئی کی جیل میں صحت کی صورتحال کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے رپورٹ طلب کی تھی۔
لطیف کھوسہ کے مطابق تین سال بعد یعنی 2026 میں کیس سماعت کے لیے مقرر ہوا، جہاں انہوں نے عدالت کو بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے مسئلے سے آگاہ کیا جبکہ حکومت پانچ روز تک اس بات سے انکار کرتی رہی اور بعد میں پریس ریلیز جاری کر دی گئی۔
بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقل کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔
دورانِ سماعت وکیل سردار لطیف کھوسہ کی جیل رولز کے حوالے سے مکمل تیاری نہ ہونے کے باعث عدالت نے کیس کی مزید سماعت دو دن کے لیے ملتوی کر دی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر سردار لطیف کھوسہ متعلقہ جیل رولز عدالت کے سامنے پیش کریں۔
اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر عدالت چاہے تو کیس کل کے لیے مقرر کر دے، وہ مکمل تیاری کے ساتھ عدالت کی معاونت کریں گے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ وہ کل دستیاب نہیں ہوں گے کیونکہ طبیعت ناساز ہونے کے باوجود وہ آج سماعت کے لیے عدالت آئے ہیں۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ دونوں فریق مکمل تیاری کے ساتھ آئیں، عدالت پرسوں دلائل سننے کے بعد فیصلہ کرے گی۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 مارچ تک کے لیے ملتوی کر دی۔
12