لاہور میں آن لائن ٹیکسی سروسز کے نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے نئی سکیورٹی پالیسی نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت ڈرائیورز کی جانچ پڑتال کا عمل سخت کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو دورانِ سفر بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد جرائم میں ملوث افراد کو ٹیکسی سروسز کا حصہ بننے سے روکنا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق اب ایسا کوئی شخص آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام نہیں کر سکے گا جس کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہو۔ نئی پالیسی کے تحت تمام ڈرائیورز کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ بھرتی سے پہلے مکمل پولیس ویریفکیشن بھی کی جائے گی۔
لاہور پولیس نے مختلف معروف رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کا معاہدہ بھی کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے بعد ڈرائیورز کی تفصیلات براہِ راست پولیس ریکارڈ سے منسلک رہیں گی، جس سے مشتبہ افراد کی فوری نشاندہی اور ان کے خلاف بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے گی۔
حکام نے بتایا کہ صرف نئے امیدوار ہی نہیں بلکہ پہلے سے کام کرنے والے ڈرائیورز کا ریکارڈ بھی ازسرِ نو جانچا جا رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ خطرے کو ابتدائی مرحلے پر ہی ختم کیا جا سکے۔ سکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ شہریوں کے اعتماد کی بحالی اور محفوظ سفری ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
یہ سخت اقدامات حالیہ “سکوٹی گرل” واقعے کے بعد سامنے آئے ہیں، جس نے آن لائن ٹیکسی سروسز کی سکیورٹی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ واقعے کے بعد حکومت نے متعلقہ اداروں کو حفاظتی نظام مزید مؤثر اور سخت بنانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ نئی سکیورٹی پالیسی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں یا افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔