ایران پر امریکہ نے حملہ کیا تو تل ابیب کو نشانہ بنائیں گے: علی شمخانی

تہران:ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سیکریٹری اور دفاعی کونسل کے رکن علی شمخانی نے امریکا کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کو ایران کھلی اور مکمل جنگ کا آغاز تصور کرے گا۔
علی شمخانی نے واضح کیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کا جواب فوری، ہمہ گیر اور غیر معمولی ہوگا، جس میں تل ابیب سمیت جارح قوتوں اور ان کے تمام حامیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود فوجی کارروائی کا تصور محض ایک خام خیالی ہے، کیونکہ امریکا کی جانب سے کسی بھی سطح اور کسی بھی مقام پر کی جانے والی عسکری حرکت جنگ کی ابتدا سمجھی جائے گی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق علی شمخانی نے یہ سخت انتباہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں دیا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی دستوں کی نئی تعیناتی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’’محدود حملے کا خیال خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ امریکا کی جانب سے کسی بھی نوعیت کی فوجی کارروائی کا جواب فوری، جامع اور بے مثال ہوگا، جو نہ صرف تل ابیب کے قلب بلکہ جارح کے تمام حمایتی مراکز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے گا۔‘‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ ایک انتہائی طاقتور بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز ’’ابراہم لنکن‘‘ کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ بحری بیڑا وینزویلا کی طرف بھیجے گئے بیڑے سے بھی کہیں بڑا اور زیادہ طاقتور ہے۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ وینزویلا کی طرح یہ بحری بیڑا بھی ضرورت پڑنے پر طاقت اور تشدد کے ذریعے اپنے مشن کو تیزی سے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امید ہے ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ، مساوی اور جامع معاہدے پر بات چیت کرے گا، ایسا معاہدہ جس میں جوہری ہتھیاروں کی کوئی گنجائش نہ ہو اور جو تمام فریقین کے مفاد میں ہو۔