ذہنی دباؤ کم کرنا چاہتے ہیں؟ ماہرین نے مزاج بہتر بنانے والی غذاؤں سے متعلق اہم تحقیق بتا دی

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

آج کی تیز رفتار زندگی، معاشی دباؤ، مصروف معمولات اور روزمرہ کے مسائل کے باعث ذہنی تناؤ اور بے چینی بہت سے افراد کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ اگرچہ ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے ورزش، مناسب آرام اور دیگر طریقے اپنائے جاتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن اور صحت بخش غذا بھی ذہنی سکون برقرار رکھنے اور مزاج بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بعض غذائیں دماغ میں ایسے کیمیکلز کی پیداوار بڑھانے میں مدد دیتی ہیں جو خوشگوار احساس، ذہنی سکون اور بہتر موڈ سے منسلک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر گرم دلیہ جیسی غذائیں جسم میں سیروٹونن کی سطح بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض غذائیں تناؤ سے وابستہ ہارمونز، جیسے کارٹیسول اور ایڈرینالین، کی مقدار کم کرنے میں بھی مددگار سمجھی جاتی ہیں۔

کون سی غذائیں زیادہ فائدہ مند ہیں؟

غذائی ماہرین کے مطابق پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس ذہنی صحت کے لیے زیادہ مفید ہوتے ہیں کیونکہ یہ آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں اور دماغ کو مسلسل توانائی فراہم کرتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے ثابت اناج سے بنی روٹی، براؤن پاستا، دلیہ اور دیگر مکمل اناج والی غذائیں بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ یہ دماغ کو بتدریج سیروٹونن بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

پھل، سبزیاں اور خشک میوہ جات

ماہرین کا کہنا ہے کہ کینو، پالک اور دیگر غذائیت سے بھرپور پھل اور سبزیاں جسم کو ضروری وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتی ہیں، جو مجموعی صحت کے ساتھ ذہنی تندرستی کے لیے بھی مفید ہیں۔

اسی طرح بادام، اخروٹ، پستہ اور مختلف بیج صحت بخش چکنائی کے بہترین ذرائع ہیں، جو دماغی افعال کو بہتر بنانے اور ذہنی دباؤ کے اثرات کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

دل اور دماغ دونوں کے لیے فائدہ مند

غذائی ماہرین کے مطابق روزانہ مناسب مقدار میں بادام، پستہ یا اخروٹ کھانے سے کولیسٹرول متوازن رکھنے، دل کی شریانوں کی سوزش کم کرنے، ذیابیطس کے خطرے میں کمی لانے اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

میٹھی اشیا سے احتیاط ضروری

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ میٹھی اشیا اور سافٹ ڈرنکس فوری توانائی فراہم کرتی ہیں، لیکن یہ خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھا دیتی ہیں، جس کے بعد توانائی میں اچانک کمی اور مزاج میں اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے انہیں ذہنی سکون کے مستقل ذریعہ کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

بلیک ٹی بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے

تحقیقی مطالعات کے مطابق بلیک ٹی بھی ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک تحقیق میں مسلسل چھ ہفتوں تک روزانہ چار کپ بلیک ٹی پینے والے افراد نے خود کو نسبتاً زیادہ پرسکون محسوس کیا، جبکہ ذہنی دباؤ کے بعد ان کے جسم میں کارٹیسول کی سطح بھی کم دیکھی گئی۔

مزید مفید غذائیں

ماہرین کے مطابق ایواکاڈو، تازہ دودھ اور بعض قدرتی جڑی بوٹیوں پر مشتمل غذائیں بھی ذہنی سکون اور بہتر مزاج میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ذہنی دباؤ مسلسل برقرار رہے، روزمرہ زندگی کو متاثر کرے یا ڈپریشن جیسی علامات پیدا ہونے لگیں تو صرف غذا پر انحصار کرنے کے بجائے کسی مستند ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ذہنی صحت صرف ادویات یا علاج سے وابستہ نہیں بلکہ متوازن غذا، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ تحقیق چند غذاؤں کے ممکنہ فوائد کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم انہیں ذہنی بیماریوں کا متبادل علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔ مستقل ذہنی دباؤ یا نفسیاتی علامات کی صورت میں ماہرین سے بروقت رجوع کرنا ہی بہترین حکمت عملی ہے۔

آپ ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے کون سی صحت مند عادت اپناتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔