لندن: ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوعمری میں، خاص طور پر 15 سال کی عمر میں زیادہ تعلیمی دباؤ (جیسے امتحانات کا تناؤ، والدین کی توقعات اور اسکول ورک کا دباؤ) ذہنی صحت پر گہرے اور دیرپا منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہ اثرات ابتدائی جوانی تک جاری رہ سکتے ہیں۔
یہ تحقیق یونیورسٹی کالج لندن (UCL) اور کارڈف یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی ہے، جس میں انگلینڈ میں 1991-92 میں پیدا ہونے والے تقریباً 5,000 نوجوانوں (ALSPAC کوہورٹ) کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج جریدے The Lancet Child & Adolescent Health میں شائع ہوئے ہیں۔
تحقیق کے اہم نتائج یہ ہیں:
- 15 سال کی عمر میں جن نوجوانوں کو سب سے زیادہ تعلیمی دباؤ کا سامنا تھا، ان میں 16 سال کی عمر میں ڈپریشن کی علامات 25 فیصد زیادہ تھیں۔
- یہ رجحان ابتدائی جوانی تک جاری رہا اور 22 سال کی عمر تک ڈپریشن کی سطح بلند رہی۔
- تعلیمی دباؤ خود کو نقصان پہنچانے (self-harm) کے خطرے سے بھی منسلک پایا گیا، جہاں ہر اضافی پوائنٹ دباؤ کے ساتھ 8 فیصد زیادہ امکان تھا۔ یہ خطرہ 24 سال کی عمر تک دیکھا گیا۔
- دباؤ کی شدت جتنی زیادہ ہوتی ہے، ذہنی صحت کے مسائل کی شدت اور دورانیہ بھی اتنا ہی بڑھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی کارکردگی پر حد سے زیادہ توجہ اور دباؤ نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔ تحقیق میں زور دیا گیا ہے کہ والدین، اسکول اور پالیسی سازوں کو اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں، جیسے متوازن تعلیمی ماحول، ذہنی صحت کی سپورٹ اور امتحانات کے تناؤ کو کم کرنے والے پروگرامز۔
یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوعمری میں تعلیمی تناؤ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کے اثرات جوانی تک پہنچ سکتے ہیں۔ محققین نے تجویز دی ہے کہ اس مسئلے پر مزید توجہ دی جائے تاکہ نوجوانوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔